فلسطین اسرائیل تنازع

ہزاروں عام شہریوں کی ہلاکت حماس کو ختم کرنے قیمت ہے: اسرائیلی فوج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی فوجی حکام نے غزہ میں ہزاروں بے گناہ شہریوں کو ہلاک کرنے کو حماس کو ختم کرنے کی قیمت قرار دیتے ہوئے ہزاروں بے گناہوں فلسطینیوں کی موت کے جواز کے طور پر پیش کیا ہے۔ نیز اسے اپنی شہری علاقوں میں جنگی حکمت عملی کا نام دیا ہے۔

اسرائیلی فوج کی طرف سے یہ موقف اس وقت سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی سطح پر حتیٰ کہ یورپ میں بھی شہریوں، بشمول ہزاروں بچوں اور عورتوں کی اندھا دھند ہلاکتوں پر تنقید کی جا رہی ہے۔

بتایا گیا ہے کہ اسرائیل نے دس ہفتوں سے جاری اس جنگ کے دوران ہزاروں ٹن بارود غزہ اور اس کے شہریوں پر پھینکا ہے جس کے نتیجے میں 20000 کے قریب فلسطینی شہید اور 52000 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ جبکہ بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 20 لاکھ کے قریب ہے۔

اسرائیلی فضائیہ کے غزہ سے 45 کلو میٹر دور واقعے ایک اڈے پر فوجی حکام نے اس سلسلے میں رپورٹرز سے بات کی۔ حکام کا کہنا تھا' ہم سمجھتے ہیں کہ ہر بار غزہ میں ہونے والی عام شہریوں کی ہلاکتوں کی قیمت کے بدلے فوجی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ کیونکہ ہمارا اہم ترین ہدف حماس کو تباہ کرنا ہے۔'

تاہم غزہ میں شہریوں کی اس قدر زیادہ ہلاکتوں کو عالمی سطح پر حمایت اب کم ہو رہی ہے۔ یہاں تک کہ امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے بھی پیر کےروز اسرائیلی وزیر دفاع سے کہہ دیا ہے کہ شہریوں کی ہلاکتیں کم کریں۔

امریکی وزیر دفاع نے بیس ہزار ہلاکتوں کے بعد یہ کہا ہے ' یہ اخلاقی مسئلہ بھی ہے اور تذویراتی معاملہ بھی، شہری ہلاکتوں کو کم کیا جائے، کیونکہ حد سے بڑھی ہوئی شہری ہلاکتیں عالمی سطح پر حماس کا فائدہ دیں گی۔ اس سے پر امن بقائے باہمی کو بھی طویل مدتی حوالے سے نقصان ہوگا۔'

یہی بات یورپی فرانس، برطانیہ اور جرمنی نے اتوار کے روز پائیدار ' سیز فائر' کے لیے کہا ہے۔ جوبائیڈن نے پچھلے ہفتے بلا امتیاز بمباری سے گریز کے لیے کہا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں