مشرق وسطیٰ

"ہم ایسے ذلیل ہوئے، نہ ہی ہمارے ساتھ پہلے ایسا کچھ ہوا" غزہ کی بے گھر خاتون کی فریاد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

بدھ کے روز غزہ کے سانحے کو ڈھائی ماہ مکمل ہونے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ ہر گذرنے والے دن غزہ کے محصورین اور جنگ سے تباہ حال لوگوں کی مشکلات مزید بڑھتی جا رہی ہیں۔ ایسے میں جنگ بندی کی کوئی امید دکھائی نہیں دیتی۔

غزہ سے ابھرنے والے المیوں میں ایک بے گھری کا صدمہ ہے۔اس المیے کا شکار ایک فلسطینی خاتون نے ’العربیہ‘ سے بات کی۔ انہوں نے کہا کہ کھانے پینے کی اشیا کی شدید قلت ہے۔اس کا کہنا تھا کہ بے گھرافراد اس وقت زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں۔

بے گھر فلسطینی خاتون نے کہا کہ کھانے پینے کی کوئی چیز نہیں، سبزیوں کی قیمتیں بہت مہنگی ہیں، کوئی کھانے کے لیے ایک لقمہ بھی نہیں خرید سکتا، ہماری کبھی تذلیل نہیں ہوئی اور نہ ہی ہمارے ساتھ ایسا ہوا ہے جو ہمارے ساتھ اب ہو رہا ہے۔

جنگ کی چنگاری 7 اکتوبر کو غزہ کی پٹی سے اسرائیل کے اندرحماس کی طرف سے شروع کیے گئے ایک غیر معمولی حملے کے ساتھ شروع ہوئی تھی، جس میں تقریباً 1,140 افراد ہلاک ہوئے اور 250 کے قریب قیدیوں کو بھی پٹی لے جایا گیا تھا۔ ان میں سے 129 اب بھی غزہ میں زیر حراست ہیں۔

حملے کے جواب میں اسرائیل نے حماس کو "ختم" کرنے کا عہد کیا اور غزہ کی پٹی میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے بڑے پیمانے پر حملے شروع کر دیے۔ منگل کو غزہ میں وزارت صحت کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق بمباری میں کم از کم 19,667 افراد شہید ہوئے۔ ان میں سے تقریباً 70 فیصد خواتین اور بچے شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں