اسرائیلی وزیر فلسطینی قیدی کو بے دردی سے تشدد کرکے قتل کرنے والوں کا ہمدرد نکلا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اگرچہ اسرائیلی جیلوں کی انتظامیہ نے گذشتہ ماہ اپنے سیلوں کے پیچھے ہونے والے جرم کو تسلیم کیا تھا مگر اسرائیلی قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن غفیر کا ایک تازہ متنازع بیان سامنے آیا ہے۔

جیل انتظامیہ کے اعلان کے بعد کہ 19 جیلروں نے فلسطینی قیدی ثائر ابو اعصب کو مارا اور تشدد کا نشانہ بنایاجس کے نتیجے میں وہ زندگی کی بازی ہار گئے۔ تاہم اس واقعے پر بن گویر نے کسی قسم کی ناراضی اظہار یا مخالفت نہیں کی۔

انہوں نے کہا کہ "میں جامع تفتیش سے پہلے جیلروں سے باز پرس نہیں کروں گا"۔

اسرائیلی چینل 12 کے مطابق جمعرات کو انہوں نے مزید کہا کہ "انہیں ان الزامات کی بے گناہی کو آگے بڑھانے کا حق ہے"۔

انہیں مارا پیٹا گیا

جزیرہ نما النقب میں قائم جیل میں موجود درجنوں محافظوں نے ابو عصب کو ہلاک کیا تھا۔ اس کا تعلق تحریک فتح سے بتایا جاتا ہے۔ مقتول کی عمر 38 سال تھی۔ انہوں نے اسے موت کے گھاٹ اتارنے سے قبل بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جبکہ متعلقہ حکام نے ان کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا ہے۔

طاھر ابو عصب
طاھر ابو عصب

انہوں نے اس کے سیل کے اندر لاٹھیوں سے اسے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوا جس کے بعد وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔

اسرائیلی نشریاتی کارپوریشن کے مطابق اسرائیلی حکام تشدد کرنےوالے اہلکاروں پر تشدد کیا، جس کے بعدچھوڑ دیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں