اسرائیلی وزیر نے جنگی کابینہ کو ناکام قرار دے کر اسے تحلیل کرنے کا مطالبہ کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر نے غزہ کی پٹی میں حماس کے ساتھ جنگ کو منظم کرنے میں ناکامی کی وجہ سے اسرائیل میں تشکیل دی گئی ہنگامی جنگی کابینہ کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے "ایکس" پلیٹ فارم پر اپنے اکاؤنٹ پر آج جمعرات کو ایک ٹویٹ میں کہا کہ "غزہ میں آپریشن کم کرنے کا خیال جنگی کابینہ میں کمزوری اور اس کی ناکامی کا ثبوت ہے۔ اسے فوری طور پر تحلیل کیا جانا چاہیے۔

ان کا اشارہ اسرائیل میں سات اکتوبر کو حماس کی طرف سے کیے گئے اچانک حملوں کے بعد غزہ میں جنگ کے لیے تشکیل دی گئی ہنگامی جنگی کیبنٹ کی طرف تھا۔

کابینہ پر شدید تنقید

اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی نے بارہا غزہ کی پٹی میں کسی بھی انسانی جنگ بندی کی مخالفت پر زور دیا ہے۔ اس نے حماس کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر سخت تنقید کی ہے۔

بین گویر جو منی گورنمنٹ میں حصہ نہیں لے رہے ہیں نے ایک سے زیادہ مرتبہ حماس کے خلاف اسرائیلی فوج کی فوجی کارروائیوں کو تیز کرنے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فوج کو غزہ کی پٹی میں حماس پر سخت حملے کرنے چاہئیں تاکہ اسے قیدیوں کی رہائی پر دباؤ ڈالا جا سکے۔

قابل ذکر ہے کہ اسرائیلی کابینہ نے گذشتہ اکتوبر میں حماس کے اچانک حملے کے بعد باضابطہ طور پر جنگی کابینہ کی منظوری دی تھی۔

کابینہ میں سکیورٹی اور سیاسی جماعتوں کے رہ نماؤں کو شامل کیا گیا تھا تاکہ جنگ سے متعلق تمام فیصلے نیتن یاہو، ان کے وزیر دفاع یوآو گیلنٹ، بینی گینٹز اور دو مبصرین پر مشتمل جنگی کونسل کے ہاتھ میں ہوں۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تل ابیب اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلےکی نئی ڈیل کے لیے بات چیت ہو رہی ہے۔ اس ڈیل کے لیے بھی اسرائیل کو حماس کے ساتھ جنگ بندی کرنے کو کہا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں