فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیلی وزیر کا حماس کے رہ نماؤں کو بیرون ملک قتل کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اسرائیل کے ایک سخت گیر وزیر بزلئیل سموٹریچ نے فلسطینی تنظیم حماس کی بیرون ملک قیادت کو قتل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

سموٹریچ کا یہ مطالبہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کہ حماس کے بیرون ملک مقیم رہ نما اسماعیل ھنیہ مصرمیں ہیں انہوں نے مصری انٹیلی جنس چیف عباس کامل سے غزہ میں جاری جنگ اور قیدیوں کے تبادلے سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

انتہا پسند "مذہبی صیہونیت پارٹی" کے سربراہ سموٹریچ نے حماس کے رہنماؤں کے ساتھ جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کی شرائط پر مذاکرات کرنے کے بجائے ان کے بیرون ملک قتل کا مطالبہ کیا۔

اسرائیلی وزیر خزانہ کے ایکس اکاونٹ سے
اسرائیلی وزیر خزانہ کے ایکس اکاونٹ سے

"وہ جہاں بھی ہوں"

مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ’ایکس‘ پر ایک ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ وہ جہاں کہیں بھی ہوں انہیں قتل کردیا جائے۔

تاہم وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی قیادت میں لیکوڈ پارٹی نے وزیر خزانہ کے بیانات پر تنقید کی۔

لیکن ساتھ ہی انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حماس کے رہ نماؤں کو قتل کرنا اسرائیلی حکومت کا بنیادی ہدف ہے۔

کل بدھ کو نیتن یاہو نے "تمام اہداف حاصل کرنے سے پہلے غزہ میں کسی بھی جنگ بندی کو مسترد کر دیا، جن میں سب سے اہم حماس تحریک کو ختم کرنا، یرغمالیوں کو رہا کرنا اور غزہ سے آنے والے خطرے کو ختم کرنا ہے"۔

خیال رہے کہ بزلئیل سموٹریچ پہلے بھی فلسطینیوں کے خلاف اپنے اشتعال انگیز بیانات کی وجہ سے مشہور ہیں۔ ان کے بیانات کو عالمی سطح پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں