فلسطین اسرائیل تنازع

بحیرہ احمر کے راستے شپنگ کا متبادل محفوظ بحری راستہ یا ہوائی جہازوں کا استعمال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

بحیرہ احمر میں بحری جہازوں پر حوثیوں کے حملوں میں اضافے اور عالمی جہاز رانی کی حفاظت کو خطرے میں ڈالنے کے ساتھ امریکی زیر قیادت فوجی اتحاد اور جہازوں کے مالکان مشرق وسطیٰ میں عالمی تجارت کی ایک بڑی شریان کو خطرے میں دیکھ رہے ہیں، کیونکہ بحیرہ احمر کی باب المندب بندرگاہ کےقریب سے اسرائیل کی طرف سفر کرنے والے بحری جہازوں کو ایران نواز حوثی ملیشیا کے حملوں کا سامنا ہے۔ ان خطرات کی وجہ سے 100 سے زائد بحری جہاز افریقہ کا رخ کرنے لگے ہیں۔

تین افراد نے بتایا کہ ’پراسپیرٹی گارڈین‘ اتحاد کے بارے میں بحیرہ احمر میں ایک بہتر میری ٹائم ٹاسک فورس جس کا اعلان پینٹاگان نے گذشتہ پیر کو کیا تھا تجارتی جہاز رانی کے لیے ایک محفوظ راہداری بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

بحیرہ احمر
بحیرہ احمر

موجودہ منصوبہ امریکا اور اتحادی ممالک کے لیے یہ ہے کہ وہ یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں کے ڈرون اور میزائل حملوں کے خلاف ڈھال فراہم کریں۔ تجارتی بحری جہازوں کے قافلوں میں بحیرہ احمر میں آبنائے باب المندب سے گذرنے کا موقع فراہم کریں جہاں دنیا بھر کی دس فی صد تجارتی سامان سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔

فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ایک امریکی اہلکار نے وضاحت کی کہ یہ منصوبہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور اس میں تبدیلی آسکتی ہے۔

طیاروں کے ذریعے؟

برآمد کنندگان "ایئر فریٹ" کو ایک اور آپشن کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

معروف جرمن شپنگ کمپنی Hellmann Worldwide Logistics کے ایئر فریٹ کے چیف آپریٹنگ آفیسر جان کلین لاستھوئس نے کہا کہ کمپنیاں اب عالمی سپلائی چین کو برقرار رکھنے کے لیے نام نہاد ملٹی موڈل ٹرانسپورٹیشن کی طرف جانے کی کوشش کر رہی ہیں، جس میں ایک مشترکہ سمندری اور فضائی راستہ شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ Hellman نے مشترکہ فضائی اور سمندری راستے پر صارفین کی اشیا جیسے کپڑے، نیز الیکٹرانکس اور تکنیکی مواد کی مانگ میں اضافہ دیکھا ہے۔ اس کا مطلب ہو سکتا ہے کہ سامان کو پہلے سمندر کے ذریعے دبئی کی بندرگاہ تک پہنچایا جائے اور وہاں سے ہوائی جہاز کے ذریعے ان کی آخری منزلوں تک پہنچایا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "یہ متبادل راستہ صارفین کو خطرے کے زون اور افریقہ کے جنوبی سرے کے گرد طویل سفر سے بچنے کا موقع دے سکتا ہے"۔

لاگت؟

’ ITS‘ لاجسٹک سپلائی چین گروپ کے ایک سیکٹر کے نائب صدر پال براشیر نے کہا کہ "کچھ کمپنیاں خاص طور پر فوری یا اہم سامان کے لیے ہوائی فریٹ استعمال کرنے کا انتخاب کر سکتی ہیں، لیکن اس پر اٹھنے والے اخراجات زیادہ ہیں اور یہ کوئی جامع حل نہیں ہے۔"

اس تناظر میں SICO لاجسٹکس کے چیف عالمی تجارتی افسر برائن برک نے وضاحت کی کہ سمندری نقل و حمل کے مقابلے میں ہوائی جہاز کے ذریعے سامان کی نقل و حمل پانچ سے 15 گنا زیادہ مہنگی ہے، جس کے لیے تاریخی معیارات کے مطابق کنٹینر شپنگ کی شرحیں اب بھی کم ہیں۔

لیکن برک جو پہلے ہی صارفین کے سوال جواب کا سامنا کر چکے ہیں نے مزید کہا کہ اگر صارفین کو سامان پہنچانے میں وقت دوگنا ہو جاتا ہے تو مزید شپنگ کمپنیاں ہوائی نقل و حمل میں تبدیل ہو جائیں گی۔

ایک اہم تجارتی راستہ

برٹش ڈریاد گلوبل کے ’سی ای او‘ قکوری رینسلم جو ایک برطانوی میری ٹائم رسک اور سکیورٹی کنسلٹنگ کمپنی چلا رہے ہیں نے تصدیق کی کہ تقریباً 35,000 بحری جہاز ہر سال بحیرہ احمر کے علاقے سے گزرتے ہیں اور یورپ، مشرق وسطیٰ اور ایشیا کے درمیان سامان کی نقل و حمل کرتے ہیں۔

یہ جہاز تقریباً 10 سمندری تجارتی سرگرمیوں اور شپنگ کی نمائندگی کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ"ایک توسیع شدہ خطرے کے تناظرمیں افریقہ کے ارد گرد منتقلی کے اخراجات میں اضافے کی وجہ سے یورپ جانے والے ایندھن اور سامان کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ جو آمد کی بندرگاہ کے لحاظ سے ٹرانزٹ میں تقریباً 30 دن کا اضافہ کر سکتا ہے‘‘۔

ٹیل ونڈ شپنگ لائنز جرمن سپر مارکیٹ چین Lidl کی ایک ذیلی کمپنی جو Lidl کے لیے نان فوڈ سامان کے ساتھ ساتھ دوسرے صارفین کے لیے سامان بھی لے جاتی ہے نے کہا کہ وہ فی الحال کیپ آف گڈ ہوپ کا راستہ اختیار کر رہی ہے۔

امریکا دیگر جگہوں پر خوردہ کمپنیاں ہندوستان سے کپاس اور الیکٹرک ٹوتھ برش اور چین، سری لنکا اور دیگر سے جوتے حاصل کرنے کے لیے اس راستے پر انحصار کرتی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں