جنگ بندی کے لیے مذاکرات کے باوجود غزہ پر ایک بار پھر اسرائیل کی بد ترین بمباری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ کی پٹی پر اسرائیلی کی طرف سے جاری جنگ کے دوران اسرائیل نے اب تک شدید ترین بمباری میں سے ایک بمباری کی ہے۔ اسرائیلی فوج کی طرف سے یہ بمباری ایسے وقت میں کی گئی ہے جب باقی ماندہ یرغمالیوں کو زندہ واپس لانے کے لیے اسرائیل میں مظاہرے ہو رہے اور امریکہ کے مطابق بہت سنجیدہ مذاکرات کیے جارہے ہیں۔

جمعرات کے روز شدید ترین بمباری شمالی غزہ میں کی گئی ہے۔ جگہ جگہ بھڑکتے شعلے اور دور تک پھیلا ہوا دھواں نظر آتا رہا۔ ہرچند لمحوں بعد اسرائیلی جنگی جہاز نیا بم گرا رہے تھے۔

شمالی غزہ میں ہزاروں افراد اسرائیلی جنگ سے پناہ لینے کے لیے موجود تھے کہ غزہ اسرائیلی بمباری اور حملوں کے نتیجے میں مکمل تباہ ہوچکا ہے۔ حماس کا کہنا ہے کہ غزہ کے لیے کھولی گئی مرکزی چوکی کا کمانڈر چند دن قبل مارا گیا تھا۔ واضح رہے یہ مرکزی چوکی غزہ کے لوگوں کو امداد دینے کے لیے کھولی گئی تھی۔

جبالیا کے رہائشیوں نے بتایا کہ اب کسی بھی علاقے سے ہمارا رابطہ نہیں ہے۔ سارے رابطے منقطع ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی فوجی ہر اس شخص پر فائرنگ کرتے ہیں جو یہاں سے باہر نکلنے کی کوشش کرتا ہے۔

جبالیا کے رہائشی نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بمباری کی یہ رات بدترین راتوں میں سے ایک تھی۔

فلسطینی ہلال احمر نے ایک پوسٹ میں ذکر کیا کہ جبالیا تک پہنچنے میں ایمبولنسز بھی ناکام ہیں۔ جبالیا پر ہونے والی بمباری کے حوالے سے ہلال احمر نے کہا کہ جبالیا میں درجنوں افراد زخمی اور شہید ہوئے ہیں۔ لیکن بدقسمتی ہے کہ امدادی ٹیمیں اور ایمبولیسز زخمیوں کے علاج معالجے کے لیے بھی نہیں پہنچ سکیں.

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں