سعودی عرب بحیرۂ عرب اور خلیج بنگال میں سمندری طوفانوں پر پینل کی سربراہی کرے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کو متفقہ طور پر اقوامِ متحدہ کے پینل کی سربراہی کے لیے منتخب کیا گیا ہے جسے بحیرۂ عرب اور خلیج بنگال میں طوفانوں کی نگرانی کا کام سونپا گیا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی کی خبر کے مطابق یہ تقرری خلیجِ بنگال اور بحیرۂ عرب میں جاری طوفانوں پر 13 ممالک پر مشتمل عالمی موسمیاتی تنظیم/اقوامِ متحدہ کے اقتصادی اور سماجی کمیشن برائے ایشیا وبحر الکاہل پینل کے لیے ہے۔

سعودی عرب کے قومی مرکز برائے موسمیات کے سی ای او ایمن بن سالم غلام نے کہا یہ تقرری "آفات سے متعلق اہم مسائل اور علاقائی و بین الاقوامی دونوں سطح پر انسانیت پر ان کے اہم اثرات سے نمٹنے کے لیے مملکت کے اہم کردار اور اس کے عزم کا ثبوت ہے۔"

غلام نے کہا جان و مال کے نقصان کو کم از کم کرنے کے لیے نگرانی اور پیشن گوئی کے نظام کو مضبوط کرنا ضروری ہے بالخصوص اس لیے کہ خطے اور دنیا میں حاری طوفانوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

یہ پینل 1972 میں سائیکلون بھولا کے بعد قائم کیا گیا تھا جو دنیا کا مہلک ترین حاری طوفان تھا جو نومبر 1970 میں بنگلہ دیش میں 300,000 سے زیادہ افراد کی ہلاکت کا سبب بنا تھا۔

چھ اصل ارکان (بنگلہ دیش، بھارت، میانمار، پاکستان، سری لنکا اور تھائی لینڈ) سے بڑھ کر پینل 13 رکنی ہو گیا اور اب اس میں مالدیپ، عمان اور یمن شامل ہیں۔ سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات اور ایران نے 2018 میں شمولیت اختیار کی۔

ریلیف ویب کی شائع کردہ اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر برائے انسانی امور کی ایک رپورٹ میں تحریر کیا گیا کہ پینل نے کامیابی کے ساتھ کئی حاری طوفانوں کا سراغ لگایا اور ان کی نگرانی کی۔ پینل نے "صحیح ابتدائی انتباہات فراہم کیے جس کی وجہ سے ہدفی انخلاء ہوا اور دسیوں ہزار افراد کو خطرے سے بچایا گیا۔"

ریلیف ویب نے خطرے سے متعلق معلومات کے تبادلے پر مشتمل سرحد پار تعاون کے مؤثر ہونے کے ثبوت کے طور پر موچا اور بِپرجوئے طوفانوں کے ساتھ خطے کے تجربات کا حوالہ دیا۔

موچا جو 14 مئی 2023 کو خلیج بنگال سے آیا تھا، میانمار میں 180 سے 190 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہواؤں، پرتشدد آندھیوں اور موسلادھار بارشوں کا سبب بنا جس سے غربت زدہ ریاست میں بڑے پیمانے پر سیلاب آ گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا، "موچا غربت، عدم مساوات اور ماحولیاتی انحطاط کے خطرناک ترین تناظر میں زمین سے ٹکرایا۔ تاہم اس کے اثرات 2008 کے طوفان نرگس کی وجہ سے ہونے والی تباہی سے نمایاں طور پر مختلف تھے جو طوفان موچا جیسا طاقتور تھا۔ اس کے نتیجے میں میانمار میں 138,000 سے زیادہ جانیں ضائع ہوئیں۔"

رپورٹ میں بتایا گیا کہ 26 جون 2023 کو بحیرۂ عرب سے 140 کلومیٹر فی گھنٹہ ہوا کی رفتار سے آنے والا طوفان بپرجوئے ہندوستان کی ریاست گجرات کے مغربی ساحل کے گنجان آباد حصوں سے ٹکرایا لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں