عالمی چیمپیئن کا خواب آنکھوں میں بسائے باکسنگ کے زینے طے کرتی غادہ الشہری سے ملیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

"اس کھیل کے لیے میرے شوق کا راز طاقت، اعتماد اور توازن کی مقدار ہے جس نے مجھے نفسیاتی اور جسمانی طور مضبوط کردیا ہے۔ ایک بار جب آپ اس میں دلچسپی لیتے ہیں تو یہ آپ کو عزم اور صبر کے ساتھ مدد کرتا ہے"۔

یہ الفاظ سعودی عرب کی خاتون باکسر غادہ الشہری کے ہیں جو تھائی باکسنگ کے میدان میں اپنی چیمپئن شپ کے حصول کے لیے کوشاں ہے۔

’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ مسلسل چار سال کے اندر تھائی لینڈ میں باکسنگ میں اہم کامیابیاں حاصل کیں۔

سعودی کھلاڑی نے مملکت کی باکسنگ چیمپئن شپ میں طلائی تمغہ اہنے نام کرکے ملک کا نام روشن کیا۔ اس نے سعودی گیمز کے دوسرے ایڈیشن میں چاندی کے تمغے کے علاوہ بہترین ابھرتے ہوئی باکسنگ اسٹار کی شیلڈ بھی حاصل کی۔ اس نے ورلڈ مارشل آرٹس چیمپئن شپ (COMPAT گیمز) میں بھی حصہ لیا اوراپنے والد کی معاونت سے سونے کا تمغہ جیتا۔

تھائی باکسنگ کے سنگ میل

ایک سوال کے جواب میں غادہ الشہری نے کہا کہ "میں تھائی باکسنگ کی مداح ہوں جو آٹھ اعضاء پر مشتمل ہوتی ہے‘‘۔تھائی باکسنگ اور دیگر کے درمیان فرق کے بارے میں اس نے کہا کہ "تھائی باکسنگ آٹھ اعضا والی باکسنگ ہے، کیونکہ آٹھ اعضا اسٹرائیکنگ اور اپنے دفاع میں استعمال ہوتے ہیں۔ اسے پورے جسم کا استعمال کرتے ہوئے لڑائی سمجھا جاتا ہے۔

اسٹرائیکنگ پورے جسم پر ہوتی ہے۔ اسٹرکنگ وینیوز کے قوانین عمر پر مبنی ہوتے ہیں۔ دوسرے فائٹنگ گیمز کی طرح ان کے بالکل مختلف اصول ہوتے ہیں اور فیصلہ کرنے کا طریقہ بھی مختلف ہوتا ہے "۔

سپورٹس فیملی

اس نے مزید کہا کہ "میرا تعلق ایک سپورٹس فیملی سےہے اور میں کھیلوں کے شوق اور جذبے کے درمیان پلی بڑھی ہوں۔

ایک تجربے کے طور پر تھائی باکسنگ سیکھنا شروع کیا۔ تاہم جب میں نے گہرائی سے مطالعہ کیا میں نے دریافت کیا کہ یہ ایک فن ہے کھیل نہیں۔ یہی وہ فن ہے جو میری نمائندگی کرتا ہے۔ میرے والد تربیت کے لحاظ سے میرے سب سے اہم حامیوں میں سے ایک تھا۔انہوں نے پہلے تو بعض وجوہ کی بنیاد پر باکسنگ میں میرے حصہ لینے کی مخالفت کی مگر جلد ہی وہ اس پر رضا مند ہوگئے۔

پڑھائی اور کھیل

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ "کھیلوں نے میری شخصیت کی تعمیر میں بہت مثبت اثر ڈالا۔ خاص طور پر خود اعتمادی اور طاقت کو بڑھانے میں میری مدد کی، مگر میری پڑھائی پر اس کا کوئی منفی اثر نہیں پڑا۔

انہوں نے مزید کہا کہ "میں نے جتنے بھی ایوارڈز حاصل کیے وہ میرے لیے باعث فخر ہیں۔ میرے دل میں جگہ رکھتے ہیں، لیکن رائزنگ اسٹار شیلڈ میرے دل کے سب سے قریب تھی کیونکہ یہ میری شاندار پہلی کارکردگی کا نتیجہ تھی‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں