فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ میں فلسطینی شہدا کی تعداد 20000 ہو گئیں، جنگ بندی کی امید بھی بڑھ گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران امید پیدا ہوئی ہے کہ اسرائیل اور حماس جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے قدم بہ قدم آگے بڑھ رہے ہیں۔ یہ پیش رفت یورپ میں قطر اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے علاوہ مصر میں حماس رہنماؤں کی آمد کے بعد سامنے آ رہی ہے۔ دوسری جانب حماس حکومت کے مطابق فلسطینی شہداء کی تعداد بیس ہزار تک پہنچ گئی ہے جبکہ اسرائیل کی انتہا پسند حکومت کے سربراہ نیتن یاہو نے گزستہ روز بھی حماس کے خاتمے تک کسی بھی جنگ بندی کے امکان سے انکار کیا ہے۔ تاہم وائٹ ہاؤس پرامید ہے کہ جنگ بندی ہوجائے گی۔

امریکی ترجمان جان کربی نے اس سورتحال پر رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت بحث و مذاکرات بڑے سنجیدہ مرحلے میں ہیں اور ہمیں بڑی امید ہے کہ ہم آگے بڑھیں گے۔ ان کا یہ بیان نیتن یاہو کے بیان کے کچھ ہی دیر بعد سامنے آیا۔

نیتن یاہو نے کہا تھا ہم اس وقت تک جنگ نہیں روکیں گے جب تک ہمارے اہداف پورے نہیں ہو جاتے۔ ہمارے اہداف مں حماس کا خاتمہ، یرغمالیوں کی رہائی اور آنے والے دنوں میں غزہ سے کسی بھی خطرے کا باقی نہ رہنا شامل ہے۔

اس سے پہلے منگل کی رات یہ اطلاع آئی تھی کہ اسرائیل کے باقی ماندہ 129 یرغمالیوں کی رہائی کے لیے موساد کے سرابراہ وارسا میں سرگرم عمل ہیں۔ غزہ میں جاری اسرائیل کی بدترین خونی جنگ کے دوران اب تک 20 ہزار فلسطینی شہید ، 53 ہزار سے زادہ زخمی اور 20 لاکھ سے زیادہ بےگھر ہوچکے ہیں۔

20 دسمبر 2023 کو غزہ کی پٹی کے ساتھ سرحد کے قریب جنوبی اسرائیل میں لی گئی ایک تصویر میں اسرائیل اور عسکریت پسند گروپ حماس کے درمیان جاری لڑائیوں کے درمیان اسرائیلی توپ خانے کو غزہ کی طرف فائرنگ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ (اے ایف پی)
20 دسمبر 2023 کو غزہ کی پٹی کے ساتھ سرحد کے قریب جنوبی اسرائیل میں لی گئی ایک تصویر میں اسرائیل اور عسکریت پسند گروپ حماس کے درمیان جاری لڑائیوں کے درمیان اسرائیلی توپ خانے کو غزہ کی طرف فائرنگ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ (اے ایف پی)

اسرائیلی یرغمالیوں کو بھی 7 اکتوبر سے مسلسل غزہ میں ایک مشکل قید کا سامنا ہے۔ جس کی وجہ سے نیتن یاہو کے خلاف اسرائیل میں مظاہرے شروع ہوچکے ہیں۔ یرغمالیوں کے رشتہ دار، دوست احباب ہر قیمت پر ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ایک سابق یرغمالی آفر اینجیل نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے یرغمالیوں کا غزہ میں گزرنے والا ہر لمحہ خطرے سے خالی نہیں ہے۔

ادھر وارسا سے ایک ذرائع نے بتایا ہے کہ موساد چیف ڈیوڈ بارنیا نے سی آئی اے چیف بل برنز کی موجودگی میں قطری وزیراعظم کے ساتھ ایک مثبت میٹنگ کی ہے۔ جس سے اچھی امید وابستہ کی جا رہی ہے۔ تاہم مذاکرات ابھی جاری ہیں تاکہ جلد کوئی نتیجہ نکالا جا سکے۔

دوسری جانب قطر میں مقیم حماس کے سربراہ اسماعیل ھنیہ بدھ کے روز قاہرہ پہنچ چکے ہیں تاکہ وہ جنگ بندی کے سلسلے میں بات چیت کو براہ راست مانیٹر کر سکیں۔ انھوں نے قاہرہ روانگی سے پہلے ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر کے ساتھ ملاقات کی ہے۔

حماس کے ذرائع نے بدھ کے روز بتایا کہ غزہ میں مکمل جنگ بندی اور اسرائیلی فوج کی غزہ سے واپسی ہماری پیشگی شرائط ہیں۔ اس کے بعد ہی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کوئی پیش رفت ہو سکتی ہے۔ اس سے پہلے حماس ہی کے ایک ذریعے نے بتایا تھا کہ ایک ہفتہ تک پھیلی ہوئی جنگ بندی کے لیے چالیس یرغمالیوں کو رہا کیا جاسکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں