نتن یاہو کا صاحب زادہ ایک بار پرسوشل میڈیا پر توجہ کا مرکز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی مشکلات اور قیدیوں کے اہل خانہ کی طرف سے ان پر اور ان کی سکیورٹی ٹیم پر تنقید ان کے لیے پہلے ہی کون سی کم تھی ان کا بیٹا جو بیرون ملک سیر سپاٹوں میں مصروف ہے ایک بار پھر سوشل میڈیا پر توجہ کا مرکز ہے۔

32 سالہ ’یائرنیتن یاھو‘ نے حالیہ گھنٹوں میں ایک بار پھر تنازعے کو جنم دیا ہے۔ اس نے "X" پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ کو’لائیک‘ کیا جس میں اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف ہرزی ہیلیوی پر نہ صرف کڑی تنقید کی گئی تھی بلکہ سات اکتوبر کے اسرائیلی بستیوں پر حماس کے اچانک حملے میں غفلت برتنے کا الزام عاید کیا گیا تھا۔

"بغاوت کا الزام"!

ایک نامعلوم صارف کے ذریعے پوسٹ کیے گئے تبصرے میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ ہیلیوی کو حملے کے بارے میں پہلے سے علم تھا، اور اس نے وزیر اعظم کو مطلع نہیں کیا۔

ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق ایک صارف نے کہا کہ "7 اکتوبر کو ہم ہرزی ہیلیوی کی قیادت میں ایک فوجی بغاوت کے درمیان تھے، جس نے وزیر اعظم کو اس وقت ہونے والے حملے کے بارے میں مطلع نہیں کیا تھا"۔

انہوں نےکہا کہ "بغاوت ختم نہیں ہوئی یہ اب بھی جاری ہے‘‘۔

یائر نے اپنے ٹیلیگرام چینل پر پوسٹ کردہا یک بیان میں کہا کہ غزہ کی سرحد پر حماس کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے والے فوجیوں کی جانب سے اچانک حملے سے کئی ماہ قبل کی وارننگ کے بارے میں بات کی گئی تھی لیکن فوجی کمانڈروں نے اسے نظر انداز کر دیا۔

اس نے میڈیا اور صحافیوں پر تنقید کی جو سیاسی سوالات پوچھتے ہیں اور اس سنگین حالات میں رائے شماری کراتے ہیں۔ وہ حالیہ رائے عامہ کے جائزوں کا حوالہ دیے رہے تھے جس میں ان کے والد کی مقبولیت میں کمی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔

یائر اس سال کے شروع میں میامی میں منتقل ہوگئے تھے لیکن اپنے ملک میں جنگ شروع ہونے کے باوجود ان کے امریکا میں قیام نے اسرائیلیوں میں بے اطمینانی اور غم وغصے کی وسیع لہر کو جنم دیا۔

قابل ذکر ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نے سکیورٹی اور انٹیلی جنس فورسز کو گزشتہ ماہ کے آخر میں حماس کے اچانک حملے کا اندازہ لگانے میں ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں