فلسطین اسرائیل تنازع

"حماس کے رہ نما مصر فرار ہوسکتے ہیں۔ سابق اسرائیلی عہدیدار کا انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی فوج نے گذشتہ پیر کو غزہ کے جنوب میں واقع شہر خان یونس میں اپنی کارروائیوں میں شدت کا اعلان کرنے کے بعد اس شہرکےعلاقے کا تقریبا 20 فیصد حصہ خالی کرنے کا حکم دیا ہے۔ جنوبی غزہ کے اس بڑے شہر میں بڑی تعداد میں بے گھر لوگ جمع ہیں۔

اسرائیلی افواج نے خان یونس میں حملے تیز کردیے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ حماس کے رہ نما زیرزمین سرنگوں میں چھپے ہوئے ہیں۔ اسرائیلی کے کچھ سابق عہدیداروں نےان کے مصر فرار ہونے کے امکان سے آگاہ کیا ہے۔

اسرائیلی قومی سلامتی کے سابق مشیر جیکب ناگل نے کہا کہ اگر انہوں نے خان یونس کو بند کردیا تو وہ رفح جا سکتے ہیں۔

"حماس کی قیادت کے فرار کا امکان"

’وال اسٹریٹ جنرل‘ کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ "اگر وہ وہاں جاتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مصر فرار ہونے کا ارادہ کر رہے ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ ان سرنگوں کا ایک بہت بڑا حصہ مصری سرزمین کی طرف 2015ء میں تباہ ہوگیا تھا لیکن ابھی تک یہ مشن ختم نہیں ہوا ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ تل ابیب کا خیال ہے کہ حماس 7 اکتوبر کے حملوں سے قبل غزہ کی پٹی میں بڑی مقدار میں اسلحہ لانے کے لئے ان سرنگوں کو استعمال کرنے میں کامیاب رہی تھی"۔

معلومات کے لیے انعامات

گذشتہ ہفتے اسرائیلی فوج نے طیاروں کے ذریعے غزہ میں پمفلٹ گرائے تھے تھے جن میں کہا تھا کہ حماس کے کمانڈر یحییٰ السنوار کی گرفتاری میں مدد دینے کرنے والے کو چار لاکھ ڈالر کا انعام دیا جائےگا۔

حماس کے تین دیگر رہ نماؤں کی گرفتاری پر بھی انعامات کی رقم کا اعلان کیا گیا جن میں عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے سربراہ محمد الضیف شامل ہیں۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ اسرائیلی افواج نے اعلان کیا کہ انہوں نے اپنی فوجی مہم کا آغاز کیا ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ حماس کوختم کرنے تک جنگ جاری رکھے گا۔

مگر اس خونی مہم کے دوران اسرائیل کو حماس کا کوئی سینیر کمانڈر ہاتھ نہیں لگا ہے۔

البتہ اسرائیلی فوج کی وحشیانہ کارپٹ بمباری کے نتیجے میں اب تک کم از کم 20،000 افراد شہید ہوچکے ہیں جن میں 8،000 بچے اور 6200 خواتین شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں