اسرائیلی فوج نے غزہ کے بجائے مغربی کنارے میں پمفلٹ پھینک دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سوشل میڈیا صارفین کی ایک بڑی تعداد نے مغربی کنارے میں قلقیلیہ کے جنوب مشرق میں بیت امین اور سینیریا کے قصبوں پر اسرائیلی فوج کی طرف سے طیاروں کے ذریعے گرائے گئے پمفلٹس کی تصویریں پوسٹ کی ہیں۔

جو پمفلٹس گرائے گئے تھے ان میں غزہ کی پٹی کے جبالیہ علاقے میں رہنے والوں کو علاقہ چھوڑنے کا کہا گیا تھا۔ غزہ کے بجائے غرب اردن میں ان کاغذوں کو گرانے سے سوشل میڈیا پر رد عمل سامنے آیا ہے۔ بیشتر صارفین نے اس کا بھرپور مذاق اڑایا ہے۔

اس پمفلٹ کے متن میں لکھا کہ "فوری وارننگ، جبالیہ، الدراج، التفاح اور اولڈ سٹی کے علاقوں میں رہنے والوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ فوری طور پر اس علاقے کو خالی کریں کیونکہ اس علاقے میں شدید جنگ ہو رہی ہے‘‘۔

فوج نے غزہ کی پٹی کے علاقوں کے لوگوں سے انخلاء کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی حفاظت کے لیے فوج آپ سے فوری طور پر انخلاء اور قریبی پناہ گاہوں میں جانے کا مطالبہ کرتی ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "اگر آپ کو مغوی افراد کے بارے میں قیمتی معلومات ملتی ہیں تو براہ کرم ہمیں کسی بھی طرح سے ان کے بارے میں بتائیں"۔

تکنیکی خرابی

دوسری طرف اسرائیل کے عبرانی اخبار ’یدیعوت احرونوت نے کل جمعرات کو رپورٹ کیا کہ روش ہیین اور شار شمرون بستیوں کے رہائشی اسرائیلی دفاعی افواج کی طرف سے کتابچے گرنے سے حیران رہ گئے۔ انہیں نے دریافت کیا کہ انہیں غزہ کی طرف بھیج دیا گیا تھا‘‘۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج کے ترجمان نے کہا کہ تکنیکی خرابی کی وجہ سے مشتہرین شمالی غزہ کی پٹی میں اپنی اصل منزل تک نہیں پہنچ سکے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں