فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیل اور حماس جنگ میں 10 ہفتوں میں سب سے زیادہ صحافی ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکہ میں قائم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) نے جمعرات کو کہا کہ اسرائیل-غزہ جنگ کے پہلے 10 ہفتے صحافیوں کے لیے مہلک ترین ریکارڈ کیے گئے ہیں جس میں ایک سال میں سب سے زیادہ صحافی ایک ہی جگہ پر جاں بحق ہوئے۔

جنگ میں جاں بحق ہونے والے زیادہ تر صحافی اور میڈیا ورکرز - 68 میں سے 61 - فلسطینی تھے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ "اسے خاص طور پر اسرائیلی فوج کی طرف سے صحافیوں اور ان کے خاندانوں کو نشانہ بنانے کے واضح انداز پر تشویش تھی۔"

اسرائیلی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ افواج صحافیوں کو نشانہ نہیں بناتیں۔

اعداد و شمار کے مطابق 7 اکتوبر سے 20 دسمبر کے درمیان رائٹرز کے بصری صحافی اعصام عبداللہ سمیت چار اسرائیلی اور تین لبنانی صحافی بھی لقمۂ اجل بن گئے۔

جنوبی لبنان میں اسرائیلی ٹینک کی فائرنگ کی فلم بناتے ہوئے جاں بحق ہونے والے رائٹرز کے ایک ویڈیو صحافی اعصام عبداللہ کی خالہ کا 20 اکتوبر 2023 کو بیروت، لبنان میں سوگ کے دوران ردِعمل۔ (فائل فوٹو: رائٹرز)
جنوبی لبنان میں اسرائیلی ٹینک کی فائرنگ کی فلم بناتے ہوئے جاں بحق ہونے والے رائٹرز کے ایک ویڈیو صحافی اعصام عبداللہ کی خالہ کا 20 اکتوبر 2023 کو بیروت، لبنان میں سوگ کے دوران ردِعمل۔ (فائل فوٹو: رائٹرز)

غیر منافع بخش تنظیم جو دنیا بھر میں آزادی صحافت کو فروغ دیتی ہے، نے کہا کہ وہ تمام صحافیوں کی موت کے حالات کی مزید تحقیقات کر رہی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں اس طرح کی تحقیقات کی کوششیں وسیع پیمانے پر تباہی اور صحافیوں کے افرادِ خانہ کے قتل کی وجہ سے متأثر ہوئیں جو عموماً تفتیش کاروں کے لیے ذرائع کا کام دیتے ہیں کہ صحافیوں کی موت کیسے واقع ہوئی۔

 الجزیرہ کے نامہ نگار وائل الدحدوح 25 اکتوبر 2023 کو اپنے تین بچوں میں سے ایک کی لاش پر سوگ منا رہے ہیں جو جنوبی غزہ کی پٹی میں نصیرات کیمپ میں دیر البلاح کے الاقصیٰ ہسپتال میں اسرائیلی حملے میں ان کی اہلیہ کے ساتھ جاں بحق ہو گئے تھے۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
الجزیرہ کے نامہ نگار وائل الدحدوح 25 اکتوبر 2023 کو اپنے تین بچوں میں سے ایک کی لاش پر سوگ منا رہے ہیں جو جنوبی غزہ کی پٹی میں نصیرات کیمپ میں دیر البلاح کے الاقصیٰ ہسپتال میں اسرائیلی حملے میں ان کی اہلیہ کے ساتھ جاں بحق ہو گئے تھے۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

سی پی جے نے کہا شدید اسرائیلی بمباری اور اس کے ساتھ بار بار ہونے والی مواصلاتی بندش اور خوراک، ایندھن اور رہائش کی کمی کے باعث غزہ میں رپورٹنگ سختی سے محدود ہو گئی ہے۔ اور مزید کہا کہ زیادہ تر جنگ کے دوران غیر ملکی صحافی اس پٹی تک آزادانہ طور پر رسائی حاصل نہیں کر سکے ہیں۔

شرقِ اوسط اور شمالی افریقہ کے پروگرام کوآرڈینیٹر شریف منصور نے کہا، "اسرائیل-غزہ جنگ صحافیوں کے لیے خطرناک ترین صورتِ حال ہے جو ہم نے کبھی دیکھی ہو اور یہ اعداد و شمار اس بات کو واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے 10 ہفتوں میں جتنے صحافی ہلاک کر دیئے ہیں، یہ کسی بھی دوسری فوج یا ادارے کے مقابلے میں کسی ایک سال میں ہلاک ہونے والے صحافیوں سے زیادہ ہے۔ اور ہر صحافی کی ہلاکت کے بعد جنگ کو دستاویز کرنا اور سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے۔"

اسرائیلی حملے میں جاں بحق ہونے والی دو فلسطینی خاتون صحافیوں حسنہ سلیم اور ساری منصور کے رشتہ دار اور ساتھی 19 نومبر 2023 کو جنوبی غزہ کی پٹی میں دیر البلاح میں ان کی تدفین کے دوران میتوں پر ماتم کر رہے ہیں۔ (اے ایف پی/فائل)
اسرائیلی حملے میں جاں بحق ہونے والی دو فلسطینی خاتون صحافیوں حسنہ سلیم اور ساری منصور کے رشتہ دار اور ساتھی 19 نومبر 2023 کو جنوبی غزہ کی پٹی میں دیر البلاح میں ان کی تدفین کے دوران میتوں پر ماتم کر رہے ہیں۔ (اے ایف پی/فائل)

سی جے پی کی مئی کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں نے گذشتہ 22 سالوں میں کم از کم 20 صحافیوں کو قتل کیا ہے اور کسی پر بھی اسے موردِ الزام یا اس سے جواب طلبی نہیں کی گئی۔

اس ماہ کے اوائل میں رائٹرز کی تحقیقات سے پتا چلا کہ 13 اکتوبر کو لبنان میں ایک اسرائیلی ٹینک کے عملے نے اسرائیل کی طرف سے یکے بعد دیگرے دو گولے داغ کر عبداللہ کو ہلاک اور چھ صحافیوں کو زخمی کر دیا جس وقت وہ سرحد پار گولہ باری کی فلم بندی کر رہے تھے۔

 3 نومبر 2023 کو صحافی، رشتہ دار اور دوست فلسطینی ٹی وی کے صحافی محمد ابو حاتب اور خاندان کے گیارہ افراد کی میتوں پر دعا کر رہے ہیں جن کا گھر جنوبی غزہ کی پٹی میں خان یونس پر اسرائیلی بمباری کا نشانہ بن گیا۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
3 نومبر 2023 کو صحافی، رشتہ دار اور دوست فلسطینی ٹی وی کے صحافی محمد ابو حاتب اور خاندان کے گیارہ افراد کی میتوں پر دعا کر رہے ہیں جن کا گھر جنوبی غزہ کی پٹی میں خان یونس پر اسرائیلی بمباری کا نشانہ بن گیا۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

7 اکتوبر کو حماس کے اچانک حملے کے بعد اسرائیل میں کم از کم 1,200 افراد مارے گئے اور 240 کو یرغمال بنا لیا گیا۔ غزہ کے محکمہ صحت کے حکام کے مطابق اسرائیل کے حملوں میں اب تک تقریباً 20,000 فلسطینیوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ مزید ہزاروں افراد ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں