جنوبی لبنان کے چھوٹے کاروبار اسرائیلی بمباری کے باوجود سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

جنوبی لبنان میں جب ایک اسرائیلی نگران ڈرون سرحدی گاؤں کفر کلا کے اوپر نچلی پرواز پر تھا، تو حسین مرتضیٰ فلافیل کے ساتھ اپنے چند باقی ماندہ صارفین کے لیے کھانا تیار کرنے میں مصروف تھا۔

60 سالہ مرتضیٰ نے گولہ باری سے ہونے والے نقصان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، "ہم بموں کے سائے تلے کام کرتے ہیں۔ کچھ دن پہلے یہاں سے 200 میٹر (650 فٹ) دور ایک گولہ گرا تھا۔ شریپنل دکان کے سامنے والے حصے اور دیوار سے ٹکرایا تھا۔"

انہوں نے اے ایف پی کو بتایا، بمباری کے دوران "میں ریستوران میں فریج کے پیچھے چھپ گیا تھا۔"

7 اکتوبر کو فلسطینی مزاحمت کار گروپ کے اسرائیل پر بے مثال حملوں کے ساتھ جب سے اسرائیل-حماس جنگ شروع ہوئی، لبنان کا حزب اللہ گروپ اپنے اتحادی حماس کی حمایت میں تقریباً روزانہ سرحد پار سے حملے کر رہا ہے۔

اسرائیل زیادہ تر ادلے کا بدلہ کی صورت میں بمباری سے جواب دے رہا ہے جو زیادہ تر سرحد کے قریبی علاقوں تک محدود ہے حالانکہ وسیع تر تصادم کا خدشہ باقی ہے۔

اے ایف پی کے اعداد و شمار کے مطابق لبنان کی جانب 140 سے زائد افراد لقمۂ اجل بن چکے ہیں جن میں سے زیادہ تر حزب اللہ کے جنگجو تھے لیکن ان میں ایک درجن سے زیادہ شہری بھی تھے جن میں سے تین صحافی تھے۔

حکام نے کہا ہے کہ اسرائیلی جانب چار شہری اور سات فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

زیتون کے درختوں کے درمیان گھرے ہوئے کفرکلا گاؤں میں کچھ گھر مکمل طور پر تباہ ہو چکے تھے اور قریبی بمباری کی آواز فضا میں گونج رہی تھی۔

مرتضیٰ کے علاقے میں اب بھی صرف ایک خور و نوش کی دکان کھلی تھی اور کئی دیہاتیوں کے بھاگ جانے کے بعد سڑکیں کافی حد تک سنسان تھیں۔

'منتشر'

گرم خوردنی تیل میں فلافیل بھونتے ہوئے مرتضیٰ نے کہا کہ وہ اپنی دکان کھلی رکھنے کے لیے پرعزم ہیں خواہ صرف چند گاڑیوں اور ایمبولینسوں کے لیے ہی سہی۔

انہوں نے آرڈر کے ساتھ جانے والے ٹماٹر اور اچار کاٹتے ہوئے کہا، "میں ہر ایسے شخص کو کھانا پیش کرتا ہوں جو بھوکا ہو حتیٰ کہ انہیں بھی جو پیسے نہیں دے سکتے۔"

چار سال کے کچل دینے والے اقتصادی بحران سے دوچار لبنان اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان ایک اور مکمل تیار تنازع کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ دونوں نے 2006 میں ایک ماہ تک جنگ لڑی تھی۔

اس ہفتے اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دشمنی پہلے ہی جنوبی لبنان کے سرحدی دیہاتوں میں "بنیادی طور پر عمارات، مکانات، تجارتی اداروں، بنیادی ڈھانچے، خدمات اور افادیت کو کافی ٹھوس نقصان" پہنچا چکی ہے۔

"معاشی سرگرمیاں اور مقامی کاروبار یا تو درہم برہم ہیں یا انہیں بند کرنا یا نقل مکانی کرنا پڑی ہے۔"

ورلڈ بینک نے جمعرات کو خبردار کیا کہ "موجودہ تنازعہ اور لبنان میں اس کے پھیلاؤ سے امکان ہے کہ 2023 کے لیے متوقع تیز رفتار نمو تیزی سے پلٹ جائے گی کیونکہ معیشت کساد بازاری کی طرف لوٹ رہی ہے۔"

طیبہ گاؤں میں اپنے پٹرول اسٹیشن پر علی منصور ان گاہکوں کے منتظر تھے جو بم دھماکوں کا مقابلہ کرنے کی ہمت کریں۔

انہوں نے کہا کہ ان کا گاؤں جو مسگاو ایم کی اسرائیلی کبوٹز کمیونٹی کی سرحد کے بالکل دوسری طرف ہے، اسرائیلی ڈرون کی مسلسل نگرانی میں ہے۔

سرحد کے ساتھ واقع دیہاتوں میں ایرانی حمایت یافتہ گروپ حزب اللہ کی نظر آنے والی فوجی موجودگی نہیں ہے۔

11 دسمبر کو طیبہ میں ایک بزرگ مقامی اہلکار اس وقت ہلاک ہو گیا تھا جب اس کی بالکونی میں ایک نہ پھٹنے والا گولہ اسے آ لگا۔

50 کے قریب عمر والے منصور نے کہا، "جب تک حملے دور ہیں، ہم روزی کمانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔"

نقل مکانی

قریبی ادیسہ میں احمد تراب نے بتایا کہ وہ گذشتہ ہفتے تک ایک چھوٹے سے ریستوران میں برگر پیش کر رہے تھے۔

23 سالہ تراب نے کہا اکتوبر میں جنگ کے آغاز سے ہی ہماری دکان کھلی رہی ہے۔

کاروبار کے سامنے گرنے والے شریپنل جس سے دکان کا نام کو بھی نقصان پہنچا تھا، اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا لیکن ایک ملازم اس وقت زخمی ہو گیا جب "ریسٹورنٹ کے سامنے ایک گولہ گرا اور دو اور اس کے پیچھے۔"

تراب نے بعد میں اے ایف پی کو بتایا کہ انہوں نے فرار ہونے کا فیصلہ کر لیا۔

انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن (بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرین) کے مطابق تشدد نے لبنان میں زیادہ تر جنوب میں 72,000 سے زیادہ افراد کو بے گھر کر دیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کی ایجنسی کے مطابق جبکہ اکثریت میزبان خاندانوں کے ساتھ رہ رہی ہے، 1,000 سے زیادہ پناہ گاہوں میں مقیم ہیں۔

ادیسہ کے مرکزی چوک میں عباس بالباکی جو ایک چھوٹی پرنٹ شاپ کے مالک ہیں، اپنے موبائل فون پر خبریں دیکھ رہے تھے۔

سگریٹ کا کش لیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گاہک ختم ہو جانے کے بعد انہوں نے اپنی دکان بند کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

البتہ اپنے مؤقف پر قائم رہتے ہوئے انہوں نے مزید کہا، "اگرچہ جنگ میں 10 ماہ یا ایک سال لگ جائے، میں نہیں جاؤں گا۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں