جنگ کے باوجود امریکی سرمایہ کار تل ابیب کی ٹیک فرمز میں منافع دیکھ رہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

پورٹ لینڈ، اوریگون میں تقریباً 7,000 میل دور وینچر کیپیٹلسٹ جارج جورک نے کہا کہ وہ فلسطینی مزاحمت کار گروپ حماس کے ساتھ ملک کی جنگ کے دوران اسرائیل کا دورہ کرنے اور ہائی ٹیک سیکٹر کے لیے تعاون کا عہد کرنے پر مجبور ہو گئے۔

چیف ٹیکنالوجی آفیسر جورک جو 1990 کے عشرے کے وسط میں بوسنیا کی جنگ کے دوران بوسنیا سے 3 سالہ پناہ گزین کے طور پر امریکہ پہنچے تھے، اس ہفتے اسرائیل کے دورے پر تقریباً 70 دیگر امریکی ٹیک ایگزیکٹوز اور سرمایہ کاروں میں شامل تھے۔

انہوں نے کہا، "یہاں آمد اسرائیل کے ساتھ یکجہتی سے کھڑے ہونے اور ٹیک ایکو سسٹم کی حمایت کرنے کا بھی ایک موقع ہے جو سیلیکون ویلی کے بعد ٹیکنالوجی کی دنیا کا دوسرا بڑا نام ہے۔ ٹیکنالوجی فنڈ کے طور پر ہمارے یہاں ہونے کا مطلب واضح ہے۔"

اگرچہ جورک یہودی نہیں لیکن انہوں نے کہا کہ وہ اسرائیل کی طرف ریاست کی لچک کی وجہ سے راغب ہوئے اور ایسے شخص کے طور پر جس کے خاندان کے خیالات جنگ نے تشکیل دیئے۔

انہوں نے 7 اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، "7 اکتوبر کو جو کچھ ہوا اس سے میں خوفزدہ تھا اور اگلے دن بھی میں اتنا ہی خوفزدہ تھا جب میں نے لوگوں کو اس کی حمایت میں مظاہرے کرتے ہوئے دیکھا۔"

سرمایہ کاروں اور تجزیہ کاروں نے پیش گوئی کی تھی کہ فلسطینیوں کے ساتھ تنازعہ ہائی ٹیک شعبے میں ایک نازک بحالی کو پٹڑی سے اتار دے گا جو اسرائیل کی نصف سے زیادہ برآمدات اور اس کی مجموعی اقتصادی پیداوار کا تقریباً پانچواں حصہ ہے۔

جب جنگ نے معیشت کو نقصان پہنچایا تو عالمی سطح پر سست روی اور منقسم حکومتی عدالتی تبدیلی کے دوران فنڈنگ پہلے ہی تیزی سے گر گئی تھی۔ شرحِ نمو اس سال 3.4 فیصد سے 2 فیصد تک گر گئی ہے جو کم از کم بھی سنگین حالات کی عکاس ہے۔

کم از کم 15 فیصد تکنیکی افرادی قوت کو فوج کی مخصوص ڈیوٹی کے لیے بلایا گیا ہے۔ جمعرات کو غزہ کی پٹی میں لڑائی شدت اختیار کر گئی اور حماس نے تل ابیب پر راکٹ حملے کیے حالانکہ دشمن ایک نئی جنگ بندی پر ہفتوں سے انتہائی سنجیدہ بات چیت میں مصروف ہیں۔

جنگ میں شدت کے باوجود بھی ٹیک فنڈنگ کے سودے اب بھی ہو رہے ہیں اگرچہ سست رفتاری سے۔ 2022 میں 16 بلین ڈالر کے مقابلے میں 2023 میں اسٹارٹ اپ نے 6 بلین سے زیادہ جمع کیا ہے۔

منگل کو کلاؤڈ ریسورس مینجمنٹ میں مہارت رکھنے والے ایک اسٹارٹ اپ سکیل اوپس نے 21.5 ملین ڈالر فنڈنگ راؤنڈ کا اعلان کیا۔ گذشتہ ہفتے سائبر اسٹارٹ اپ زیرو نیٹ ورکس جو حملہ آوروں کو کارپوریٹ نیٹ ورکس میں پھیلنے سے روکتا ہے، نے 20 ملین ڈالر جمع کیا۔

'اسرائیل پر طویل مدتی تیزی'

بین کیپیٹل وینچرز کے رون میاسنک جنہوں نے مل کر وفد کو منظم کیا، کہا کہ انہیں توقع تھی کہ اسرائیلی اسٹارٹ اپ بڑی رقم حاصل کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ ملک کی معیشت بالآخر واپس پلٹے گی۔

انہوں نے کہا، "ہمیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ معاشی بحالی میں تین ماہ، چھ ماہ، نو ماہ یا 12 ماہ لگتے ہیں۔ ہم اسرائیل کے کاروبار میں نمو کے بارے میں طویل مدتی پر امید ہیں۔"

میاسنک نے کہا کہ اس سفر کا خیال دیگر یکجہتی گروپوں کو دیکھنے سے آیا ہے جیسے مذہبی گروپ۔ انہوں نے کہا کہ "ہم نے محسوس کیا کہ (امریکی) ٹیکنالوجی اور وینچر کیپیٹل کمیونٹی غائب تھی جو اسرائیل کے اندر بہت زیادہ مربوط ہے۔"

انہوں نے کہا، ابتدائی طور پر یہ صرف 15 افراد تھے لیکن سینکڑوں لوگوں نے دلچسپی ظاہر کی۔ ان میں سی ای اوز اور امریکہ میں قائم میٹ اپ ڈاٹ کام، سسکوئے ہینا گروتھ ایکویٹی، ماسٹر کارڈ، جان ڈیئر اور ہاورڈ یونیورسٹی کے وقف سرمایہ فنڈ کے وی سی (وینچر کیپیٹل) اور ٹیک فنڈز کے سینئر سربراہان اور سی ای اوز شامل تھے۔

مقامی سرمایہ کاروں اور سٹارٹ اپس سے ملنے کے علاوہ انہوں نے اسرائیلی رہنماؤں اور غزہ میں بدستور اسیر یرغمالیوں کے اہلِ خانہ سے ملاقات کی اور 7 اکتوبر کے حملے سے متأثرہ سرحدی شہروں کا دورہ کیا۔

بین نے اسرائیل میں متعدد کمپنیوں میں سرمایہ کاری کی ہوئی ہے بشمول ریڈس لیب جس میں فنڈ نے 100 ملین ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی ہے اور سائبر سیکیورٹی فرم آرمس۔ اور میاسنک نے کہا کہ وہ اپنے پورٹ فولیو میں مزید اسرائیلی سائبر سیکیورٹی اسٹارٹ اپس کو شامل کرنے کے خواہاں تھے۔

اسی طرح نیویارک میں مقیم گوتھم وینچرز کے منیجنگ ڈائریکٹر ڈینی شولز نے کہا کہ وہ اگلے تین سے پانچ سالوں میں 10 سے 20 اسرائیلی گروتھ اسٹیج اسٹارٹ اپس میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے تھے خاص طور پر فِن ٹیک میں۔

انہوں نے کہا، "اس موقع پر کہ اسرائیلی سی ای اوز کو زیادہ سرمائے کی ضرورت ہے لیکن انہیں اپنی کمپنیاں بنانے میں واقعی مدد کے لیے امریکہ اور یورپ میں سمندر پار تعلقات کی بھی ضرورت ہے۔"

جوائے مارکس نے دی 98 نامی ایک نئے فنڈ کی مشترکہ بنیاد رکھی اور صرف "خواتین کے زیرِ قیادت ٹیکنالوجی کے کاروبار جو صنعت میں خلل پیدا کر رہے ہیں" میں سرمایہ کاری کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا، "میں جنگ کی وجہ سے اذیت کا شکار ہوں۔ اس لیے میں یہاں سب سے پہلے اسرائیل کی حمایت کرنے آئی ہوں۔ اور میں کچھ اسرائیلی خواتین میں سرمایہ کاری کرنے میں بھی بہت دلچسپی رکھتی ہوں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں