اسرائیل نے زمینی حملے کو وسعت دے دی، کرم ابو سالم کراسنگ پر بمباری کرنے کا اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ وہ ایک ڈرون حملے میں کرم ابو سالم کراسنگ کے فلسطینی سائیڈ کے ڈائریکٹر اور تین دیگر ملازمین کی ہلاکت کی تحقیقات کر رہی ہے۔ اسرائیلی فوج نے حملہ کرنے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اس نے کرم ابو سالم کراسنگ کے قریب بندوق برداروں کو نشانہ بنایا تھا۔ اس کراسنگ پر اقوام متحدہ کے ملازمین روزانہ تقریباً 80 ٹرکوں میں غزہ میں امداد پہنچانے کا کام کرتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان سٹیفن ڈوجارک نے کہا کہ اسرائیلی کے حملے کے بعد کراسنگ پر ترسیل کی کارروائیاں عارضی طور پر روک دی گئی ہیں۔

قحط کا خطرہ منڈلانے لگا

اسرائیلی افواج نے جمعہ کو مرکزی غزہ پر ایک نیا حملہ کیا اور اپنی زمینی دراندازی کو وسعت دیدی۔ سلامتی کونسل نے غزہ میں قحط کے خطرے کو روکنے کے لیے انسانی امداد میں اضافے کے لیے قرارداد منظور کرلی ہے۔ قرار داد میں امریکہ اور روس نے ووٹ نہیں دیا۔ تیرہ ووٹوں سے قرار داد کو منظور کرلیا گیا۔

اسرائیل اور حماس کو نئی جنگ بندی پر راضی کرنے کی کوشش کے حوالے سے مصر میں جاری مذاکرات میں فوری پیش رفت کی امید ختم ہونے کے بعد غزہ کی پٹی میں اسرائیل نے فضائی حملے اور توپ خانے سے گولہ باری شروع کردی۔ پٹی کے مختلف علاقوں میں لڑائیوں کی اطلاعات بھی آنے لگیں۔

البریج کے مکینوں کو نقل مکانی کا اسرائیلی حکم

اسرائیلی فوج نے وسطی غزہ میں البریج کے رہائشیوں کو فوری طور پر جنوب کی طرف منتقل ہونے کا حکم دے دیا۔ اس علاقے میں زمینی حملے میں تیزی لانے کا خطرہ پیش کیا جا رہا ہے۔ اسرائیل نے شمالی غزہ کی پٹی کو پہلے ہی تباہ کر دیا ہے ۔ اسرائیلی افواج نے جنوب میں دراندازی کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔

بین الاقوامی مذمت

اسرائیل کی وحشیانہ بمباری اور زمینی کارروائیوں کے نتیجے میں فلسطینیوں کی اموات تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ اسرائیلی حملوں کی بین الاقوامی مذمت میں اضافہ ہوا رہا ہے۔ حتی کہ امریکہ نے بھی اسرائیل سے عام شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کردیا ہے۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق سات اکتوبر سے شروع ہونے لڑائی کے 77 ویں دن تک اسرائیلی حملوں میں 20057 فلسطینی شہید اور 53,320 زخمی ہو گئے ہیں۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ غزہ کی لڑائی میں اس کے 784 فوجی اور افسران زخمی ہوئے ہیں جن میں سے 180 کی حالت تشویشناک ہے۔ جمعہ کو اسرائیل نے البریج کے مشرقی علاقوں میں ٹینکوں سے بمباری بھی کی۔ اسرائیلی فوج نے البریج سے فلسطینیوں کو نکال جانے کا بھی حکم دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں