غزہ میں اسرائیل کی خونی جنگ جس نے ہلاکتوں کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی ریاست کے قیام کے 77 سال میں صہیونی ریاست نے اپنے دفاع کے دعوے کی آڑ میں کئی جنگیں لڑیں مگر جو تباہی اور بربادی موجودہ غزہ جنگ میں ہوئی ہے اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔

اسرائیل کی طرف سے غزہ پر مسلط کی گئی جارحیت کے نتیجے میں ہر گزرتے لمحے اموات کی تعداد میں غیرمعمولی اضافہ ہو رہا ہے۔

امریکی اخبار’نیویارک ٹائمز‘ کے مطابق ایک امریکی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل نے اپنے قیام 1948ء سےلے کر اب تک فلسطینیوں اور دوسرے عرب ممالک کے خلاف جنگیں لڑیں ان کی نسبت موجودہ جنگ زیادہ خونی اور مہلک ثابت ہوئی ہے۔ اس میں ہونے والے جانی نقصان نے ماضی کی جنگوں کی اموات کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔

غزہ میں اسرائیلی فوج کی طرف سے مسلط کی گئی جارحیت میں اموات میں کا حساب لگانا مشکل ہے۔ اب تک اموات کا جو تناسب سامنے آیا ہے وہ ہلاکتوں کی اصل تعداد کی نمائندگی نہیں کرتا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں ہونے والی اموات نے امریکا کی عراق اور افغانستان میں شروع کی گئی جنگوں میں ہونے والی اموات سے بھی بڑھ گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں جانی نقصان میں بے پناہ اضافے کی کئی وجوہات ہیں۔ ان میں ایک بڑی وجہ اسرائیل کا بھاری ہتھیاروں اور زیادہ تباہی پھیلانے والے بموں کا استعمال اور علاقے کا گنجان آباد ہونا ہے۔ گنجان آباد علاقے میں تباہی پھیلانے والے بموں کی وجہ سے اموات کی شرع میں اضافہ ہوا ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں حماس کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا رہی ہے۔

مہلک جنگ

دوسری جانب رپورٹ میں کہا ہے کہ اسرائیل کی تاریخ میں موجودہ جنگ سب سے بتاہ کن اور مہلک ہے۔75 سال میں اسرائیل نے اتنے لوگ کسی جنگ میں نہیں مارے جتنے اس بار قتل کردیے گئے ہیں۔

لبنان کی سنہ 1982ء جنگ میں اسرائیل نے پہلے تین ہفتوں میں اتنے لوگ قتل نہیں کیے جتنے غزہ میں قتل کردیے گئے ہیں۔

سنہ 1967ء میں جنگ میں مجموعی طور پر 19 ہزار افراد ماے گئے تھے جب کہ 1973ء کی جنگ میں بھی قریبا اتنے ہی لوگ ہلاک ہوئے تھے۔

اخبار ٹائمز کے مطابق اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس نے غزہ میں حماس کے 7 ہزار جنگجو ہلاک کیے ہیں مگر اسرائیل نے یہ نہیں بتایا کہ اس نے اس تعداد کا اندازہ کیسے لگایا۔

غزہ میں حکومت کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کی بمباری میں 6700 لوگ لا پتا ہیں۔ یہ لوگ بھی جنگ میں مارے جانے والوں میں شامل ہوسکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں