قتل عام نے فلسطینیوں کے لڑنے کی خواہش بڑھا دی، ہمیں منظر سے ہٹانا ناممکن ہے: حماس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایک طرف جنگ کے خاتمے کے بعد غزہ کی پٹی کے مستقبل کے بارے میں پردے کے پیچھے یہ بات چیت ہو رہی ہے کہ اس پر حکمرانی کونسی اتھارٹی کرے گی۔ غزہ کی پٹی میں 77 دنوں سے جنگ جاری ہے اور اسرائیل اور امریکہ یہاں پر اگلی حکومت کے قیام کے حوالے سے سرگرم ہو گئے ہیں۔ اس سب کے باوجود حماس کے ایک سرکردہ رہنما نے واضح کردیا ہے کہ منظر سے حماس کو ہٹانا ناممکن ہے۔

حماس کے سیاسی بیورو کے رکن موسیٰ ابو مرزوق نے جمعہ کے روز کہا کہ تحریک کا منظر سے غائب ہونا ناممکن ہے۔ انہوں نے کہا فلسطینی عوام ہی انتخاب کریں گے کہ ان کی قیادت کون کرے گا۔ انہوں نے "ایکس" پلیٹ فارم پر مزید کہا کہ حماس کو ختم کرنے کی امریکہ، اسرائیل، مغرب اور خطے کے کچھ ملکوں کی خواہش پوری نہیں ہو گی۔

انہوں نے سوال کیا کہ "اسرائیل کس کے فائدے کے لیے فلسطینی عوام پر قیادت مسلط کرنا چاہتا ہے؟ یہ کیسی جمہوریت ہے، انسانی حقوق کہاں ہیں؟ عوام کو اپنے مستقبل کا انتخاب کرنے کی آزادی کہاں ہے؟ کیا فلسطینی عوام نہیں ہیں؟ کیا وہ کسی سرپرستی کے بغیر اپنی قیادت کا انتخاب کرنے کے مستحق نہیں ہیں؟۔

انہوں نے مزید کہا کہ قتل عام نے فلسطینی عوام کی مزاحمت کی خواہش کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب غزہ کی پٹی بڑے پیمانے پر تباہی پھیل گئی ہے۔ خوراک اور طبی سامان کی قلت ہے۔ اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں زیادہ تر ہسپتال کام سے محروم ہوگئے ہیں۔

اسرائیلی فوج نے جنگ شروع ہونے کے 77 ویں دن بھی وحشیانہ بمباری جاری رکھی۔ فلسطینی حکام کے مطابق اس لڑائی میں اب تک 20057 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں 8000 بچے بھی شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں