'ہم مر رہے ہیں': غزہ کے باشندے لڑائی سے پناہ کے متلاشی

کئی لوگوں نے متعدد بار بے آسرا ہونے کے بعد وسطی غزہ کے بریج کیمپ میں پناہ حاصل کی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

کمبل اور اپنا معمولی سامان پکڑے ہوئے ہزاروں فلسطینی جمعے کے روز غزہ کی پٹی کے مرکز سے جنوب کی طرف بھاگ گئے تاکہ ان کے بقول اسرائیلی بمباری سے بچ سکیں۔

7 اکتوبر کو حماس کے ساتھ اسرائیل کی جنگ شروع ہونے کے بعد کئی لوگ متعدد بار بے آسرا ہوئے جس کے بعد حال ہی میں انہوں نے حفاظت کی تلاش میں وسطی غزہ کے بریج مہاجر کیمپ میں پناہ لی تھی۔

سڑکوں سے گذرنے والے ان لوگوں کی گدھا گاڑیاں سامان کے بوجھ سے چرچرانے کی آوازیں نکالتی تھیں۔ درپیش سفر کے لیے کمبل باندھے ہوئے ان خاندانوں نے بچوں کو پرام میں بٹھایا ہوا تھا اور بوڑھے رشتہ داروں کو ہجوم میں لے کر چلتے تھے۔

والا المدینی جو غزہ شہر میں اپنے گھر پر حملے میں زخمی ہو گئی تھیں اور وہیل چیئر استعمال کرتی ہیں، نے کہا: یہ زندگی نہیں ہے: نہ پانی، نہ کھانا، کچھ نہیں۔"

اس نے کہا۔ "میری بیٹی میری گود میں جان سے چلی گئی اور مجھے تین گھنٹے کے بعد ملبے کے نیچے سے نکالا گیا۔ ہمارا گھر اردگرد کی ہر چیز کے ساتھ تباہ ہو گیا۔"

انہوں نے بتایا کہ وہ 40 راتوں سے صحیح طرح سے سو نہیں سکیں۔

"دنیا کے لیے میرا پیغام ہے کہ وہ ہماری طرف دیکھیں، ہمیں دیکھیں، دیکھیں کہ ہم کیسے مر رہے ہیں۔ وہ توجہ کیوں نہیں دیتے؟"

جمعہ کو اسرائیلی فوج کے جاری کردہ انخلا کے حکم نامے میں بریج پناہ گزین کیمپ کے رہائشیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ "اپنی حفاظت کے لیے فوری طور پر وہاں سے نکل جائیں" اور مزید جنوب کی طرف دیر البلاح شہر کی طرف بڑھیں۔

اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق اسرائیل کی بمباری اور زمینی حملے نے غزہ کے تقریباً 1.9 ملین باشندوں کو بے گھر کر دیا ہے جو کل آبادی کا تین چوتھائی حصہ ہے۔

اس نے محصور علاقے میں زیادہ تر ہسپتالوں کو کام سے قاصر کر دیا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت نے کہا ہے کہ نو جزوی طور پر کام کر رہے ہیں۔

وسطی غزہ کے اقصیٰ اسپتال میں طبی عملہ المغازی میں ایک اور مہاجر کیمپ سے اسٹریچرز پر لیٹے مریضوں کے لیے جگہ تلاش کرنے پہنچ گیا۔

بھرے ہسپتال میں انہوں نے فرش پر ایک زخمی لڑکے کا علاج کیا۔ ایک بچہ زمین پر جھولے میں چیخ رہا تھا اور اس کے چھوٹے سے ماتھے سے خون بہہ رہا تھا۔

حماس کے زیرِانتظام وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ 48 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی بمباری میں 410 سے زائد افراد جاں بحق ہو گئے۔

غزہ شہر کے کچھ حصوں میں اسرائیلی فوجیوں اور حماس کے مزاحمت کاروں کے درمیان گلی گلی لڑائی دیکھی گئی ہے۔

جنگ 7 اکتوبر کو شروع ہوئی جب حماس کے مزاحمت کاروں نے غزہ کی عسکری سرحد کو توڑ ڈالا اور اسرائیل میں تقریباً 1,140 افراد کو ہلاک کر دیا جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔ یہ اسرائیلی اعداد و شمار پر مبنی اے ایف پی کی تعداد ہے۔

اس حملے کے دوران مزاحمت کاروں نے تقریباً 250 افراد کو اغوا بھی کیا تھا۔

حماس کو تباہ کرنے کا عزم کرتے ہوئے اسرائیل نے غزہ پر مسلسل بمباری اور زمینی حملہ شروع کر دیا جہاں حماس کی تازہ ترین تعداد کے مطابق اب تک 20,057 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

حماس کے حکام کے مطابق ان میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔

غزہ کا ایک بڑا حصہ ملبے میں تبدیل ہو جانے کے بعد بے گھر افراد پرہجوم پناہ گاہوں یا خیموں میں رہنے پر مجبور ہو گئے ہیں اور خوراک، ایندھن، پانی اور طبی سامان کی تلاش کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

بریج پناہ گزین کیمپ میں سالم یوسف نے جنوب کی طرف رفح کا سفر کرنے کا منصوبہ بنایا۔

غزہ شہر سے بے گھر ہونے والے اس شخص نے بتایا کہ اس نے پہلے الشفا ہسپتال میں پناہ لی، پھر محصور علاقے کے وسط میں واقع نصیرات پناہ گزین کیمپ میں ڈیڑھ ماہ گذارا۔

اسرائیل نے بارہا فلسطینیوں سے کہا ہے کہ وہ غزہ کی تنگ پٹی کے ان علاقوں تک پہنچ جائیں جو اس کے بقول محفوظ ہیں لیکن حملے ان علاقوں کو تباہ کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

یوسف نے کہا، "وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ یہ محفوظ ہے لیکن کوئی جگہ محفوظ نہیں۔"

انہوں نے کہا وہ امید کرتے ہیں کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو " جرائم اور معصوم لوگوں کے قتل کو روکیں گے اور (حماس کے مسلح ونگ عزالدین القسام بریگیڈز) کے مقامات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کرنا بند کر دیں گے جب وہ ان تک پہنچ بھی نہیں سکتے۔

انہوں نے کہا، "مجھے یہ بھی امید ہے کہ وہ بچوں کے قتل اور لوگوں کے سروں پر چھت کو تباہ کرنے سے روکیں گے۔"

"یہ غلط ہے. نیتن یاہو جو کچھ بھی کر رہے ہیں، وہ غلط ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں