جہازوں پرحوثی حملوں میں ایران ملوث نہیں: ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران کے نائب وزیر خارجہ نے ہفتے کے روز امریکی الزامات کو مسترد کر دیا ہے کہ ایران بحیرہ احمر میں حوثیوں کے حملوں میں ملوث ہے۔ ایرانی نائب وزیر کا کہنا ہے کہ حوثیوں کے حملے ان کی اپنی وجہ سے ہیں۔ علی باقری کانی کمرشل بحری جہازوں پر حوثیوں کے حملوں کے بارے میں بات کر رہے تھے۔

حوثیوں نے اب تک ایک سو سے زیادہ ڈرون، میزائل اور راکٹ حملے بحیرہ احمر میں جہازوں پر کیے ہیں۔ ان میں وہ حملے بھی شامل ہیں جو کمرشل جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے اور وہ بھی جو امریکی اہداف کے لیے تھے۔ تاکہ غزہ میں ہزاروں ہلاک ہونےوالے فلسطینیوں اور اسرئیل بمباری کا مقابلہ کرنے والوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا جا سکے۔

حوثیوں نے اعلان کر رکھا ہے کہ جب تک غزہ میں اسرائیلی بمباری جاری ہے وہ اسرائیل کی مدد کے لیے خطے میں موجود اتحادیوں کو بھی نشانہ بنائیں گے، نیز جب تک اسرائیل غزہ میں امدادی سامان کی ترسیل میں رکاوٹیں ڈالتا رہے گا کمرشل جہازوں کو اسرائیلی کی بند گاہ کی طرف بھی نہیں جانے دیا جائے گا۔

جمعہ کے روز وائٹ ہاوس نے اس بارے میں امریکی انٹیلی جنس رپورٹس کو عوامی ضرورت کے لیے پبلک کیا ہے۔ جن میں بتایا گیا ہے کہ ایران نے حوثیوں کو میزائل اور ڈرون دینے کے علاوہ 'ٹیکٹیکل اینٹیلی' جنس بھی فراہم کی ہے تاکہ حوثی حملے ممکن ہو سکیں۔ واضح رہے یمنی حوثی یمن کے بڑے حصے پر قابض ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا ہیں۔

تاہم ایرانی نائب وزیر خارجہ کے بیان کو ایرانی خبر رساں ادارے مہر نے رپورٹ کرتے ہوئے لکھا ہے' حوثیوں کی مزاحمت کے اپنے طور طریقے اور اسباب ہیں۔'

ایرانی وزیر نے مزید کہا ' حقیقت یہ ہے کہ امریکی اور اسرائیلی شامل ہیں کو مزاحمتی تحریکوں کی طرف سے مزاحمت کا سامان ہے۔ اس لیے علاقے میں مزاحمتی تحریکوں کی طاقت پر سوال اٹھائے جائیں۔'

غزہ کی پٹی پر اسرائیلی مسلسط کردہ جنگ اور بمباری کو گیارہواں ہفتہ جاری ہے اور اب تک غزہ میں 20000 سے زائد شہری شہید ہو چکے ہیں۔ اسرائیل حماس کو تباہ کرنے کے نام پر عام فلسطینیوں اور ان کے بچوں کو بموں سے مار رہا ہے۔ جبکہ امریکہ اور بعض اہم مغربی ملک پوری طرح اسرائیل کےساتھ کھڑے ہیں۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان پچھلے ماہ ہی کہہ چکے ہیں کہ جنگ میں شدت کا بڑھتے چلے جانا اس کے پھیلاؤ کا باعث بننے سے روکنا مشکل ہو جائے گا۔'

ایران کے صدر ابراہیم رئیسی نے بھی کہا ہے ' ایران اپنا یہ فرض سمجھتا ہے کہ مزاحمتی گروپوں کی حمایت کرے، مگر انہوں نے ساتھ ہی واضح کیا وہ جو کچھ بھی کرتے ہیں اپنی آزاد رائے ، فیصلوں اور اعمال کی بنیاد پر کرتے ہیں۔

پچھلے ماہ ایران کی طرف سے اسرائیلی الزام کی بھی تردید کی گئی تھی کہ حوثی ایرانی رہنمائی کے مطابق عمل کر رہے ہیں۔ اسرائیل کی طرف سے یہ اس وقت کہا گیا تھا جب حوثیوں نے ایک اسرائیلی شناخت کا حامل بحری جہاز قبضے میں لے لیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں