غزہ میں بچے فاقہ کشی کی وجہ سےحقیقی موت کے خطرے سے دوچار ہیں:یونیسیف

اسرائیل بتائے کہ غزہ سے اغواء کیے گئے لوگوں کو کس حال میں رکھا گیا ہے: حماس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

آج اتوار کو غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج اور فلسطینی مزاحمت کاروں کے درمیان گھمسان کی جنگ کے ہولناک مناظر سامنے آئے ہیں۔ دوسری جانب تقریبا تین ماہ سے جاری اسرائیلی جارحیت میں ہزاروں فلسطینی شہید اور لاکھوں فاقہ کشی کا شکار ہیں جن میں بڑی تعداد بچوں کی ہے۔

درایں اثناء اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال کی طرف سے ایک بار پھرغزہ میں قحط کی وارننگ دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں بھوک، ننگ اور قحط بچوں کی موت کا حقیقی خطرہ بنتا جا رہا ہے۔

’یونیسیف‘ نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں بھوک سے موت کا خطرہ ’حقیقی‘ ہو گیا ہے۔ "ایکس" پلیٹ فارم پر اپنے اکاؤنٹ کے ذریعے تنظیم نے غزہ میں انسانی امداد کی تیز، محفوظ اور بلا روک ٹوک رسائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ "غزہ کی پٹی میں بچوں اور خاندانوں کو اب فضائی بمباری اور زمینی گولہ باری کے ساتھ بھوک، پیاس اور شدید سردی کا سامنا ہے جو جنگ زدہ لاکھوں لوگوں کے لیے جان لیوا خطرات بنتے جا رہے ہیں‘‘۔

دوسری جانب اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] نے ریڈ کراس سے ایک بار پھر مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ سے یرغمال بنائے گئے فلسطینیوں کے بارے میں معلومات کرے اور اسرائیل سے پوچھے غزہ سے پکڑے گئے لوگوں کو کہاں اور کس حال میں رکھا گیا ہے۔

حماس نے کہا کہ اسرائیلی فوج نے غزہ سے سیکڑوں فلسطینیوں کوجبری اغوا کیا ہے۔ ان کے بارے میں کسی قسم کی معلومات نہیں۔ ان سیکڑوں فلسطینیوں میں سے بیس کو رہا کیا گیا جنہیں دوران حراست بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

حماس نے زور دیا کہ غزہ سے جبری اغواء کیے گئے شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنانے اوران کی زندگیاں خطرے میں ڈالنے پر اسرائیل کا محاسبہ کیا جائے اور صہیونی لیڈرشپ کو کہٹرے میں لایا جائے۔

غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کی بمباری کے نتیجے میں تباہ ہونے والی عمارتوں میں دبے لوگوں کو نکالنے کے لیے امدادی کارکنوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ غزہ میں ایک تازہ ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں امدادی کارکنوں کو ملبے سے ایک جلی ہوئی لاش نکالنے کے لیے دستی ہتھیاروں سے مدد لینا پڑ رہی ہے۔

غزہ میں وزارت صحت نے اتوار کے روز بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی بربریت میں کم از کم 166 فلسطینی شہید اور 384 زخمی ہوئے۔

وزارت صحت نے مزید کہا کہ اس سے 7 اکتوبر سے اب تک شہید ہونے والوں کی مجموعی تعداد 20,424 اور زخمیوں کی تعداد 54,036 ہو گئی ہے۔ غزہ کی تقریباً تمام آبادی بے گھر ہوچکی ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں لوگ خوراک کے حصول کے لیے اپنا مال بیچ رہے ہیں۔ دوسری طرف بچوں کے عالمی ادارے ’یونیسیف‘ نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی میں 80 فیصد سے زیادہ بچے "خوراک کی شدید قلت، غربت اور قحط کا شکار ہیں۔"

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس اذانوم گیبریئس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ "ایکس" پر اپنے اکاؤنٹ پر ایک بلاگ پوسٹ میں کہا کہ غزہ میں "بھوک اور قحط کے ڈیرے" ہیں۔

انہوں نے کہا کہ لوگ بھوک کا سامنا کر رہے ہیں اور کھانے کے بدلے میں اپنا سامان بیچنے پرمجبور ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ والدیں بھوکے رہتے ہیں تاکہ ان کے بچےکچھ کھا سکیں۔ یہ صورتحال غزہ کی پٹی کے لوگوں کی صحت کے لیے تباہ کن ہے جن کے بچے ہیں اور وہ شدید نوعیت کے محاصرے کا شکار ہیں"۔

درایں اثناء ’یونیسیف‘ نے ایک بیان میں کہا کہ اس کے اندازوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ آنے والے ہفتوں میں پانچ سال سے کم عمر کے کم از کم 10,000 بچے غذائی قلت کا شکار ہوںے کے بعد فوت ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ غزہ میں 80 فیصد سے زائد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "یہ نتائج بتاتے ہیں کہ غزہ کی پٹی میں پانچ سال سے کم عمر کے تمام بچے جن کی تعداد 335,000 ہے شدید غذائی قلت اور موت کے منہ میں ہیں۔

خیال رہے کہ غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی طرف سے مسلط کی گئی ننگی جارحیت کے نتیجے میں ہزاروں کی تعداد میں شہری شہید اور زخمی ہوچکے ہیں۔ ان میں زیادہ تر بچے اور خواتین شامل ہیں۔ اسرائیل کی طرف سے مسلط کی گئی ناکہ بندی کے باعث غزہ میں خوراک، ادویات اور سردی سے بچنے کے لیے بنیادی ضروریات کا شدید فقدان ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں