نجی شعبے میں عجائب گھروں کا قیام معاشرے کے لیے مفید ثابت ہوگا: سعودی کمیشن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب میں عجائب گھروں سے متعلق کمیشن کے زیر اہتمام اجلاس میں نجی شعبے میں عجائب گھروں کی تشکیل و قیام کے امور پر غور کیا گیا ہے۔ تاکہ اس سے معاشرے کی ثقافتی ترقی کے ساتھ ساتھ سیاحت کے امکانات کو بڑھایا جا سکے۔

اجلاس میں لوک ورثے کے ماہرین، عجائب گھروں کے نجی مالکان اور دلچسپی رکھنے والی مختلف شخصیات نے شرکت کی۔ کمیشن برائے نجی عجائب گھر نے اس موقع پر نجی شعبے کو متحرک کرنے کے امکانات کا جائزہ لیتے ہوئے نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کی ہے۔

اس موقع پر کمیشن کی لوک ورثے اور ثقافتی میدان میں خدماات اور دائرہ کار سے متعلق موضوعات کا بھی احاطہ کیا گیا۔ نیز نجی شعبے کے لیے بنائے گئے قواعد وضوابط پر بات کرنے کے علاوہ لائسنس کے اجراء کو بھی زیر بحث لایا گیا ہے۔

اجلاس میں سعودی لوک ورثے اور ثقافت کو سعودی عرب میں فروغ سیاحت کے لیے بروئے کار لانے کے امکانات اور اس سلسلے میں حکومتی و نجی شعبے میں ضروری تعاون کے امور کا بھی جائزہ لیا گیا اور شرکت داری کے سلسلے میں امکانات پر غور کیا گیا۔

السلیم القحطانی جو کہ دو نجی عجائب گھروں کے بانی ہیں نے لائسنس کے حصول میں اپنے تجربے کی روشنی میں مشکلات اور امکانات کا جائزہ پیش کیا۔ نیز شائقین کی دلچسپی بڑھانے اور انہیں مائل کرنے کیے اقدامات کی نشاندہی کی۔ ان کا کہنا تھا اس سلسلے میں سماجی اداروں کے ساتھ اشتراک کی اپنی افادیت ہے۔

السلیم القحطانی نے کہا ' وزارت تعلیم، وزارت ثقافت، وزارت سیاحت اور ان شعبوں سے متعلق تنظیموں کو نجی شعبے کے عجاائب گھروں کے لیے اپنے تعاون کا امکانات کو بڑھانا چاہیے۔'

واضح رہے اجلاس کو بتایا گیا ہے کہ نومبر 2022 سے اب تک کمیشن نے 59 افراد کو نجی شعبے میں عجائب گھر قائم کرنے کے لائسنس جاری کی گئے۔اس میں نجی مالکان کو اپنے گھر عجائب گھروں میں تبدیل کرنے کی اجازت بھی دی گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں