ہم جنگ میں بھاری قیمت ادا کررہے ہیں،لڑائی جاری رکھنے کےعلاوہ کوئی چارہ نہیں:نیتن یاہو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اتوار کے روز زور دے کر کہا ہے کہ غزہ کی پٹی میں 7 اکتوبر سے جاری جنگ کی ہم نے بھاری قیمت چکائی اور آج بھی چکا رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بات جمعہ کے بعد دو روز میں 14 فوجیوں کی ہلاکت کے بعد کی ہے۔

نیتن یاہو نے کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس کے آغاز میں کہا کہ "ہم جنگ میں بہت زیادہ قیمت ادا کررہے ہیں، لیکن ہمارے پاس لڑائی جاری رکھنے کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں ہے"۔

تاہم انہوں نے اس خبر کی تردید کی کہ امریکا نے اسرائیل کو غزہ میں مزید فوجی کارروائیوں سے روک دیا ہے۔

نیتن یاہو نے کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس کے دوران کہا کہ "میں جھوٹی افواہوں کو دیکھ رہا ہوں جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا نے ہمیں روکا ہے اور خطے میں کارروائیاں کرنے سے روک رہا ہے۔ ایسا کچھ نہیں ہوا۔ امریکا نے ہمیں کسی بھی کارروائی سے نہیں روکا"۔ انہوں نے ان رپورٹس کی تفصیلات بتائے بغیر مزید کہا کہ "یہ درست نہیں ہے۔ اسرائیل ایک خودمختار ریاست ہے۔ جنگ میں ہمارے فیصلے ہمارے عملی تحفظات پر مبنی ہوتے ہیں۔ میں اس پر مزید بات نہیں کروں گا‘‘۔

امریکی اخبار ’وال سٹریٹ جرنل‘ نے کل ہفتے کو رپورٹ کیا تھا کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے نیتن یاہو کو قائل کیا ہے کہ وہ لبنان میں حزب اللہ گروپ پر حملہ نہ کریں کیونکہ خدشہ ہے کہ حزب اللہ جواب میں اسرائیل پر حملہ کرے گی جیسا سات اکتوبر کو حماس نے کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ "اپنی افواج کو استعمال کرنے کا فیصلہ اسرائیلی ڈیفنس فورسز کا آزادانہ فیصلہ ہےکسی اور کا نہیں"۔

اتوار کے روز اسرائیلی فوج نے محصور جنوبی غزہ کی پٹی میں حماس کے خلاف اپنی کارروائیاں تیز کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب قحط زدہ علاقے میں بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں