فلسطین اسرائیل تنازع

جنوبی غزہ میں لڑائی مہینوں تک جاری رہ سکتی ہے: اسرائیلی فوجی عہدیدار

جنوبی غزہ میں حم پاس کی گوریلا جنگ کی حکمت عملی پیچیدہ ہے۔ شمالی غزہ کی نسبت جنوبی غزہ میں پیش قدمی زیادہ مشکل ہوگی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

ایک اعلیٰ سطحی اسرائیلی افسر نے پیر کے روز ’وال سٹریٹ جرنل‘ کو بتایا کہ جنوبی غزہ کی پٹی میں لڑائی میں مہینوں لگ سکتے ہیں۔ جس طرح شمالی غزہ پر اسرائیل کو کنٹرول حاصل ہوا ہے اس کی نسبت جنوبی غزہ میں جنگ جیتنے کے لیے طویل وقت درکار ہوگا۔

امریکی اخبار کے مطابق مذکورہ فوجی عہدیدار خان یونس شہر میں اسرائیلی افواج کی کمانڈ کرتا ہے۔ اس نے اسرائیلی فوج کی بڑھتی ہوئی ہلاکتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ حماس نے "گوریلا جنگ" کی حکمت عملی اختیارکی ہے جس میں گھات لگا کر حملہ کرنے اور سنائپرز کے استعمال سے حملہ کیا جاتا ہے۔ اس میں جنگجو براہ راست لڑائی سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اسرائیلی افسر نے واضح کیا کہ حماس کی جانب سے کیے جانے والے یہ حملے عموماً دو سے پانچ افراد پر مشتمل سیل کے ذریعے کیے جاتے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی میں لڑائیوں میں ہلاک ہونے والے اس کے فوجیوں کی تعداد بڑھ کر 156 ہو گئی ہے۔ قبل ازیں کل اتوار کو شمالی غزہ کی پٹی میں لڑائی کے دوران دو اضافی فوجی مارے گئے تھے۔

اسی دوران اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیئل ہاگری نے اسرائیلی فوج کی جانب سے کی جانے والی فوجی کارروائیوں کو پیچیدہ قرار دیتے ہوئے اعلان کیا کہ فوج خان یونس میں اپنی کارروائیاں تیز کر رہی ہے۔

غزہ کی پٹی میں وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ وسطی پٹی میں المغازی کیمپ پر اسرائیلی بمباری سے مرنے والوں کی تعداد کم از کم 78 ہو گئی ہے۔

گذشتہ رات اسرائیلی قابض فوج کی طرف سے غزہ کے المغازی پناہ گزین کیمپ میں اسرائیلی فوج کی جنگی طیاروں ، ٹینکوں اور توپوں سے گولہ باری کے نتیجے میں سیکڑوں فلسطینیوں کو شہید کرتے ہوئے ان کے گھروں کو ان کا مدفن بنا دیا گیا۔ گھروں پر بمباری میں اب تک 70 شہداء کی لاشیں نکالی گئی ہیں جبکہ بچوں اور خواتین سمیت دسیوں افراد اب بھی ملے تلے دبے ہوئے ہیں۔ امددی کارکنوں کو متاثرہ علاقے میں رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔

وزارت صحت کے ترجمان ڈاکٹر اشرف القدرہ نے المغازی کیمپ میں توپ خانے کی گولہ باری اور جنگی طیاروں کی بمباری کے نتیجے میں 70 شہداء کی لاشوں کو ہسپتالوں میں لائے جانے کی تصدیق کی ہے۔ بہت سی لاشیں ناقابل شناخت ہیں جبکہ کئی شہریوں کے جسم کے صرف اعضا ملے ہیں۔ تباہ ہونے والے گھروں اور عمارتوں کے ملبے تلے سیکڑوں افراد اب بھی دبے ہوئے ہیں اوران میں سے کسی کے زندہ بچ جانے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

القدرہ نے کہا کہ المغازی کیمپ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ایک پرہجوم رہائشی علاقے میں فلسطینیوں کی کھلم کھلا نسل کشی ہے۔ راگ گئے حملے میں قابض فوج نےشہریوں پر بھاری بم گرائے جہاں بے گھر ہونے والے سیکڑوں خاندان پناہ لیے ہوئے ہیں۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ اسرائیلی قابض فوج وسطی علاقے میں کیمپوں کے درمیان مرکزی سڑک پر بمباری کر رہی ہے تاکہ ایمبولینسوں اور شہری دفاع کی گاڑیوں کو نشانہ بنا کر انہیں متاثرہ مقامات تک جانے سے روکا جا سکے۔

ہلال احمر سوسائٹی نے کہا کہ قابض فورسز نے اپنے جنگی طیاروں کے ذریعے بھاری ہتھیاروں سے بم باری کی جس کی وجہ سے البریج، المغازی اور النصیرات کیمپوں کے درمیان اہم سڑکیں منقطع ہوگئیں، جس سے ایمبولینس اور ریسکیو عملے کے کام میں رکاوٹ پیدا ہوئی ہے۔

سرکاری میڈیا کے دفتر نے کہا کہ "اسرائیلی" قابض فوج نے وسطی غزہ کی پٹی میں المغازی کیمپ میں قتل عام کیا، سالم اور النصرہ خاندانوں کے 3 آباد مکانوں پر بمباری کی، جس کے نتیجے میں درجنوں افراد شہید اور زخمی ہوئے۔

دفتر برائے اطلاعات کے مطابق صہیونی غاصب فوج نے المغازی کیمپ پر کم سے کم 50 خوفناک اور تباہ کن حملے کیے جن میں بے پناہ جانی نقصان ہوا ہے۔ گرائے جانے والے بموں نے ہر طرف آگ لگا دی۔

غزہ کی پٹی میں سات اکتوبر سے جاری اسرائیلی بربریت میں اب تک شہید ہونے والوں کی تعداد 20424 ہوگئی جب کہ 54 ہزار سے زائد فلسطینی زخمی ہو چکے ہیں۔

دوسری جانب اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] نے المغازی کیمپ پر اسرائیلی فوج کی طرف سے خون کی ہولی کھیلنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتےہوئے اسے صریح عالمی جرم قرار دیا ہے۔ حماس نے ایک بار پھر عالمی برادری سےمطالبہ کیا کہ وہ غزہ کی پٹی میں اسرائیلی جارحیت اور جنگی جرائم کی روک تھام کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور جنگی جرائم پر اسرائیلی ریاست کے نام نہاد لیڈروں کو کہٹرے میں لایا جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں