حماس اور اسلامی جہاد غزہ کی حکومت چھوڑنے کے بدلے مستقل جنگ بندی مسترد کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

حماس اور اس کی اتحادی مزاحمتی تحریک اسلامی جہاد نے مصر کی طرف سے سامنے لائی گئی اس پیش کش کو مسترد کر دیا ہے کہ 'حماس غزہ کی حکومت سے دستبردار ہو جائے تو اس کے بدلے میں مستقل جنگ بندی کی جا سکتی ہے۔ ' یہ بات مصری سیکیورٹی سے متعلق دو مختلف ذرائع نے بتائی ہے۔

واضح رہے دونوں فلسطینی مزاحمتی گروپ مصری حکام کے ساتھ قاہرہ میں الگ الگ مذاکرات کر چکے ہیں۔ مصر نے اس دوران ایک نیا تصور پیش کیا ہے۔ مصر کے اس تصور کی حمایت قطری ثالث بھی کرتے ہیں۔ جو یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے میں ' سیز فائر ' کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

مصر اور قطر کے درمیان اتفاق رائے سے تیار کی گئی اس تجویز کے تحت مستقل جنگ بندی کے بدلے میں غزہ میں قیادت کی سطح پر تبدیلی کے ذریعے وسیع تر معاہدہ جا سکتا ہے۔ قیادت میں ایسی تبدیلی لائی جائے جو حماس کی موجودہ قیادت کی جگہ لے سکے۔

مصر نے اپنی اس تجویز میں غزہ میں نئے انتخابات کی بھی بات کی ہے اور حماس کو یقین دلانے کی کوشش بھی کی ہے ان ممکنہ انتخابات سے پہلے اور دوران میں اس کے کارکنوں کو کوئی تعاقب یا تشدد کا نشانہ بھی نہیں بنایا جائے گا۔ تاہم حماس نے یہ پیش کش رد کر دی ہے۔

حماس کے ایک ذمہ دار جنہوں نے حال ہی میں قاہرہ کا دورہ کیا ہے نے ایسی کسی بھی پیش کش پر براہ راست کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ جو انسانی بنیادوں پر جنگ بندی سے کچھ زیادہ ہو۔ نیز یہ اشارہ دیا کہ حماس اپنے پرانے ہی موقف پر قائم ہے اور نئی شرائط والی پیش کشوں کو مسترد کرتی ہے۔

حماس ذمہ دار نے ' روئٹر' سے بات کرتے ہوئے کہا ' حماس اپنے عوام پر مسلط اسرائیلی جارحیت کا خاتمہ چاہتی ہے، چاہتی ہے قتل عام بند ہو اور نسل کشی روکی جائے۔ اپنے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ بھی یہی بات کی ہے۔'

حماس کے ذمہ دار رہنما نے یہ بھی کہا ' ہمارے لوگوں کے لیے امدادی سامان کی ترسیل جاری رہنی چاہیے اور اس میں اضافہ بھی ہونا چاہیے۔ جب اسرائیلی جارحیت رک جائے گی اور امدادی سامان کی ترسیل میں اضافہ ہو جائے گا تو ہم یرغمالیوں کی رہائی پر بات چیت کے لیے تیار ہوں گے۔'

فلسطینی مزاحمت کار اور حماس کے اتحادی گروپ اسلامی جہاد نے بھی اسی موقف میں اپنی آواز ملائی ہے۔ خیال رہے اسلامی جہاد کے پاس بھی کئی اسرائیلی یرغمالی موجود ہیں ۔

اسلامی جہاد کے وفد نے بھی حالیہ دنوں میں قاہرہ کا دورہ کیا ہے اور مصری حکام کے ساتھ مذاکرات میں اپنا موقف پیش کیا ہے.

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں