فلسطین اسرائیل تنازع

شامیوں نے غزہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے کرسمس کی تقریبات منسوخ کر دیں

صرف مذہبی تقریبات ہوں گی، عزیزیہ ضلع کا مرکزی چوک تقریباً خالی، کوئی آرائش نہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

کرسمس کے موقع پر شام کے شہروں کی سڑکیں ویران ہو گئی ہیں جہاں مرکزی گرجا گھروں نے غزہ میں جنگ کے شکار فلسطینیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے تقریبات کو صرف دعاؤں تک محدود کر دیا ہے۔

حلب کے سیریاک کیتھولک آرچ بشپ مور ڈیونیسیس انٹوئن شاہدا نے اے ایف پی کو بتایا، "یسوع مسیح کی جائے پیدائش فلسطین میں لوگ مصائب کا شکار ہیں۔"

شمالی شام کے شہر عزیزیہ کے مرکزی ضلع میں تہوار کے لیے عموماً ایک پررونق بازار اور ایک بہت بڑے کرسمس ٹری کا اہتمام ہوتا ہے جبکہ اس کی سڑکیں روشنیوں اور آرائشی اشیاء سے مزین کی جاتی ہیں۔

لیکن اس سال مرکزی چوک تقریباً خالی ہے اور کرسمس کی کوئی آرائش نظر نہیں آتی۔

شاہدا نے کہا، اسرائیلی افواج کی "غزہ پر بمباری کے متأثرین سے اظہارِ یکجہتی کے لیے شام میں ہم نے اپنے گرجا گھروں میں تمام سرکاری تقریبات اور استقبالیہ منسوخ کر دیئے ہیں"۔

شام کے تین بڑے گرجا گھروں - یونانی آرتھوڈوکس، سیریاک آرتھوڈوکس اور میلکائٹ یونانی کیتھولک پیٹریارکس – نے اعلان کیا کہ انہوں نے کرسمس کے تہواروں کو منسوخ اور تقریبات کو صرف مذہبی تقریبات تک محدود کر دیا ہے اس لیے سیریاک کیتھولک چرچ اس معاملے میں تنہا نہیں ہے۔

تینوں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا، "موجودہ حالات کے پیشِ نظر بالخصوص غزہ میں سرپرستوں نے کرسمس اور سالِ نو کی مبارکبادیں وصول نہ کرنے پر معذرت کی ہے،" اور مزید کہا کہ تقریبات صرف "دعاؤں" تک محدود ہوں گی۔

حماس کے زیرِ اقتدار فلسطینی علاقے میں وزارتِ صحت نے کہا ہے کہ 7 اکتوبر کو جنوبی اسرائیل پر ایک مہلک حملے کے جواب میں اسرائیل کی جانب سے بڑے پیمانے پر فضائی اور زمینی کارروائی شروع کی گئی جس کے بعد سے غزہ کی پٹی میں 20,000 سے زیادہ افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

حکام نے کہا ہے کہ غزہ میں جاں بحق ہونے والوں میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار پر مبنی اے ایف پی کی تعداد کی مطابق حماس کے حملے میں اسرائیل میں تقریباً 1,140 افراد ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔

غزہ کے لاکھوں باشندے تشدد کی وجہ سے بے گھر اور پرہجوم پناہ گاہوں یا خیموں میں رہنے پر مجبور ہو گئے ہیں جہاں وہ اکثر خوراک، ایندھن، پانی اور طبی نگہداشت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوامِ متحدہ کے ادارے نے کہا ہے کہ جاری اسرائیلی فوجی مہم نے تنگ علاقے میں کہیں بھی کوئی محفوظ جگہ نہیں چھوڑی۔

2011 میں خانہ جنگی شروع ہونے سے پہلے شام 1.2 ملین سے زیادہ عیسائیوں کا مسکن تھا حالانکہ اس کے بعد سے بڑی تعداد نقلِ مکانی کر گئی ہے۔

تنازعہ نے کرسمس کی تقریبات کو کم کر دیا تھا لیکن حالیہ برسوں میں تہواروں میں اضافہ ہوا کیونکہ اہم محاذ منجمد ہو گئے اور سرکاری افواج نے ملک کے بڑے حصے پر دوبارہ قبضہ حاصل کر لیا۔

پھر بھی دارالحکومت دمشق کی گلیوں میں اداسی چھائی ہوئی ہے۔

تہوار صرف ایک بازار تک محدود ہیں جبکہ دمشق میں یونانی آرتھوڈوکس میریمائٹ کیتھیڈرل نے اپنے احاطے میں معمولی آرائش کی اور ایک چھوٹا سا درخت لگایا ہے۔

دمشق کی رہائشی 66 سالہ ریچل حداد نے بتایا کہ وہ دو ماہ سے زیادہ عرصے سے غزہ میں ہونے والی تباہی کی خبریں پڑھنے کے لیے اپنے فون سے چپکی ہوئی تھیں اور ان کا کرسمس ٹری لگانے کو دل نہیں چاہتا۔

جنوبی ترکی اور شام میں 6 فروری کو آنے والے زلزلے میں کم از کم 55,000 افراد جاں بحق ہو گئے تھے جس کا حوالہ دیتے ہوئے حداد نے کہا، "یہ سال بہت اداس تھا۔ یہ زلزلے سے شروع ہوا اور غزہ کی جنگ کے ساتھ ختم ہوا۔"

انہوں نے شام کی معاشی پریشانیوں کو بھی ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا۔ "خوشی کا کوئی موقع نہیں تھا۔"

ملک کی معیشت جنگ کی زد میں ہے اور بار بار ایندھن کی قلت اور روزانہ بجلی کی طویل بندش زندگی کی ایک حقیقت بن گئی ہے۔

حداد نے پوچھا۔ "بجلی نہیں ہوگی تو آرائش اور روشنیاں کیسے دیکھیں گے؟"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں