فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ میں جنگ بندی اور فلسطین کاز کے لیے سعودی قیادت میں سفارتی میراتھان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فلسطین کاز سعودی خارجہ پالیسی میں ایک مرکزی نکتے کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کی وجہ بھی بڑی واضح اور صاف ہے کہ سعودی عرب اور فلسطین کے دونوں خطوں کے تعلقات بڑے گہرے ہیں۔ فلسطینی سعودی عرب کے سفارتی اور امدادی کردار کو طویل عرصے سے تسلیم کرتے ہیں۔ غزہ میں جاری موجودہ بحران میں بھی سعودی عرب کبھی پیچھے نہیں ہٹا ہے۔

اب سات اکتوبر کے بعد سے خاص طور پر اسرائیلی حملے بطور خاص یہی رد عمل رہا ہے کہ اسرائیلی جارحیت کو روکنے کے لیے کردار ادا کرنے کے لیے کوششیں تیز تر کیے رکھے۔

غزہ کے رہائشی 69 سالہ الحداد سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ ان کے غزہ میں کچھ رشتہ دار حالیہ حملوں کے دوران جاں بحق ہوئے ہیں۔

الحداد ان بحرانوں میں سعودی عرب کے کردار اور حمایت کے بارے میں کہتے ہیں' مملکت کی فلسطینی کاز کے لیے حمایت کی تاریخ میشہ نمایاں رہی ہے۔'

انہوں نے مزید کہا ' یہ صرف فلسطینیوں کی ہی نہیں بلکہ تمام عرب ممالک کی حمایت اور امداد کرنے والی مملکت ہے۔ اس نے ہمیشہ فلسطینیوں کے مفادات، حقوق کے تحفظ کا اہتمام کیا ہے۔'

واضح رہے غزہ میں اسرائیلی بمباری سے تباہ حال فلسطینیوں کی مدد کے لیے سعودی عرب نے شاہ سلمان ریلیف کے تحت 4500 ٹن کی امدادی اشیاء روانہ کی ہیں۔

الحداد نے فلسطینیوں کے لیے شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی کوششوں کو بطور خاص ذکر کیا کہ شاہ سلمان ریلیف کے پلیٹ فارم سے یہ کوششیں مملکت کی دیرینہ وابستگی کا اظہار ہیں۔

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان حالیہ نے دنوں اپنے ایک بیان میں کہا ' فلسطینیوں کو اپنے زمین پر سلامتی و وقار کے ساتھ رہنے کا پورا حق ہے۔' الحداد نے اس سلسلے میں کہا 'سعودی عرب نے کبھی بھی فلسطینیوں کے لیے اپنی کوششوں کو روکا نہیں ہے۔ عالمی رہنماؤں کے ساتھ گفتگوؤں، رابطوں اور سفارتی میدان میں کاوشوں کی کوئی نہ کوئی شکل جاری رہتی ہے۔'

فلسطینیوں کے لیے قومی سطح پر فنڈ فراہمی کی مہم اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ سیہم پلیٹ فارم سے فلسطینیوں کی مدد کے لیے بھی کوششیں اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔

'میں اپنی اور اپنے فلسطینی بھائیوں کی طرف سے یہ کہتا ہوں ' ہم تشکر کے اعلیٰ ترین اظہار کرتے ہیں۔ ہم خادم حرمین شریفین کے ممنون ہیں، ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے لیے شکر گذار ہیں کہ جس طرٖ وہ مہربانی کے انداز میں فلسطینی کاز اور فلسطینیوں کی امداد کر رہے ہیں۔ '

پورے مشرق وسطیٰ میں مشرقی ایشیائی دنیا میں مملکت کی حمایت اور امداد فلسطینیوں کے لیے قائم دائم ہے۔ یہ خطے کے پورے بیانیے پر حامی ہے۔' الحداد نے مزید کہا۔

غزہ کے ہی رہائشی اور حال مقیم سعودی عرب 63 سالہ باسل عبدالعزیز بھی مملکت کی فلسطین کاز اور فلسطینیوں کے لیے غیر متزلزل حمایت کے معترف ہیں۔

وہ مملکت کی غیر معمولی مالی امداد سے بھی بڑھ کر سفارتی اور سیسی حمایت کو اہمیت دیتے ہیں۔ کہ کس طرح سعودی عرب نے مسئلہ فلسطین کے حوالے سے عالمی برادری کے ضمیر کو جگانے کی ہمیشہ کوشش کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں