فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ کے المغازی کیمپ پر وحشیانہ اسرائیلی بمباری میں کم سے کم 70 فلسطینی شہید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

غزہ کی پٹی کے وسطی علاقے میں قائم المغازی پناہ گزین کیمپ پر اسرائیلی فوج نے رات گئے ایک خوفناک خونی حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں دسیوں فلسطینی شہید اور زخمی ہوگئے ہیں۔ شہداء اور زخمیوں میں زیادہ تر عام شہری، بچے اور خواتین شامل ہیں۔

گذشتہ رات اسرائیلی قابض فوج کی طرف سے غزہ کے المغازی پناہ گزین کیمپ میں اسرائیلی فوج کی جنگی طیاروں ، ٹینکوں اور توپوں سے گولہ باری کے نتیجے میں سیکڑوں فلسطینیوں کو شہید کرتے ہوئے ان کے گھروں کو ان کا مدفن بنا دیا گیا۔ گھروں پر بمباری میں اب تک 70 شہداء کی لاشیں نکالی گئی ہیں جبکہ بچوں اور خواتین سمیت دسیوں افراد اب بھی ملے تلے دبے ہوئے ہیں۔ امددی کارکنوں کو متاثرہ علاقے میں رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔

وزارت صحت کے ترجمان ڈاکٹر اشرف القدرہ نے المغازی کیمپ میں توپ خانے کی گولہ باری اور جنگی طیاروں کی بمباری کے نتیجے میں 70 شہداء کی لاشوں کو ہسپتالوں میں لائے جانے کی تصدیق کی ہے۔ بہت سی لاشیں ناقابل شناخت ہیں جبکہ کئی شہریوں کے جسم کے صرف اعضا ملے ہیں۔ تباہ ہونے والے گھروں اور عمارتوں کے ملبے تلے سیکڑوں افراد اب بھی دبے ہوئے ہیں اوران میں سے کسی کے زندہ بچ جانے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

القدرہ نے کہا کہ المغازی کیمپ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ایک پرہجوم رہائشی علاقے میں فلسطینیوں کی کھلم کھلا نسل کشی ہے۔ راگ گئے حملے میں قابض فوج نےشہریوں پر بھاری بم گرائے جہاں بے گھر ہونے والے سیکڑوں خاندان پناہ لیے ہوئے ہیں۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ اسرائیلی قابض فوج وسطی علاقے میں کیمپوں کے درمیان مرکزی سڑک پر بمباری کر رہی ہے تاکہ ایمبولینسوں اور شہری دفاع کی گاڑیوں کو نشانہ بنا کر انہیں متاثرہ مقامات تک جانے سے روکا جا سکے۔

ہلال احمر سوسائٹی نے کہا کہ قابض فورسز نے اپنے جنگی طیاروں کے ذریعے بھاری ہتھیاروں سے بم باری کی جس کی وجہ سے البریج، المغازی اور النصیرات کیمپوں کے درمیان اہم سڑکیں منقطع ہوگئیں، جس سے ایمبولینس اور ریسکیو عملے کے کام میں رکاوٹ پیدا ہوئی ہے۔

سرکاری میڈیا کے دفتر نے کہا کہ "اسرائیلی" قابض فوج نے وسطی غزہ کی پٹی میں المغازی کیمپ میں قتل عام کیا، سالم اور النصرہ خاندانوں کے 3 آباد مکانوں پر بمباری کی، جس کے نتیجے میں درجنوں افراد شہید اور زخمی ہوئے۔

دفتر برائے اطلاعات کے مطابق صہیونی غاصب فوج نے المغازی کیمپ پر کم سے کم 50 خوفناک اور تباہ کن حملے کیے جن میں بے پناہ جانی نقصان ہوا ہے۔ گرائے جانے والے بموں نے ہر طرف آگ لگا دی۔

غزہ کی پٹی میں سات اکتوبر سے جاری اسرائیلی بربریت میں اب تک شہید ہونے والوں کی تعداد 20424 ہوگئی جب کہ 54 ہزار سے زائد فلسطینی زخمی ہو چکے ہیں۔

دوسری جانب اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] نے المغازی کیمپ پر اسرائیلی فوج کی طرف سے خون کی ہولی کھیلنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتےہوئے اسے صریح عالمی جرم قرار دیا ہے۔ حماس نے ایک بار پھر عالمی برادری سےمطالبہ کیا کہ وہ غزہ کی پٹی میں اسرائیلی جارحیت اور جنگی جرائم کی روک تھام کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور جنگی جرائم پر اسرائیلی ریاست کے نام نہاد لیڈروں کو کہٹرے میں لایا جائے۔

ہم جنگ میں بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں: نیتن یاھو

قبل ازیں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اتوار کے روز زور دے کر کہا تھا کہ غزہ کی پٹی میں 7 اکتوبر سے جاری جنگ کی ہم نے بھاری قیمت چکائی اور آج بھی چکا رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بات جمعہ کے بعد دو روز میں 14 فوجیوں کی ہلاکت کے بعد کی ہے۔

نیتن یاہو نے کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس کے آغاز میں کہا کہ "ہم جنگ میں بہت زیادہ قیمت ادا کررہے ہیں، لیکن ہمارے پاس لڑائی جاری رکھنے کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں ہے"۔

تاہم انہوں نے اس خبر کی تردید کی کہ امریکا نے اسرائیل کو غزہ میں مزید فوجی کارروائیوں سے روک دیا ہے۔

نیتن یاہو نے کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس کے دوران کہا کہ "میں جھوٹی افواہوں کو دیکھ رہا ہوں جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا نے ہمیں روکا ہے اور خطے میں کارروائیاں کرنے سے روک رہا ہے۔ ایسا کچھ نہیں ہوا۔ امریکا نے ہمیں کسی بھی کارروائی سے نہیں روکا"۔ انہوں نے ان رپورٹس کی تفصیلات بتائے بغیر مزید کہا کہ "یہ درست نہیں ہے۔ اسرائیل ایک خودمختار ریاست ہے۔ جنگ میں ہمارے فیصلے ہمارے عملی تحفظات پر مبنی ہوتے ہیں۔ میں اس پر مزید بات نہیں کروں گا‘‘۔

امریکی اخبار ’وال سٹریٹ جرنل‘ نے کل ہفتے کو رپورٹ کیا تھا کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے نیتن یاہو کو قائل کیا ہے کہ وہ لبنان میں حزب اللہ گروپ پر حملہ نہ کریں کیونکہ خدشہ ہے کہ حزب اللہ جواب میں اسرائیل پر حملہ کرے گی جیسا سات اکتوبر کو حماس نے کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ "اپنی افواج کو استعمال کرنے کا فیصلہ اسرائیلی ڈیفنس فورسز کا آزادانہ فیصلہ ہےکسی اور کا نہیں"۔

اتوار کے روز اسرائیلی فوج نے محصور جنوبی غزہ کی پٹی میں حماس کے خلاف اپنی کارروائیاں تیز کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب قحط زدہ علاقے میں بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہو رہ ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں