فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ کے فلسطینیوں پر اسرائیلی تشدد فوجی حراست میں بھی جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی اسیران پر تشدد اسرائیل کا پرانا وطیرہ ہے لیکن ان دنوں غزہ سے گرفتاری کیے گئے فلسطینیوں کو اسرائیل فوج بھی اپنے حراستی مراکز میں بد ترین تشدد کا نشانہ بنا رہی ہے۔ یہ بات دو رہائی پانےوالے قیدیوں اور طبی عملے کے ایک رکن نے بتائی ہے، تاہم اسرائیلی فوج نے اسے الزام قرار دیا ہے اور تردید کی ہے۔

یہ دو افراد ان سینکڑوں قیدیوں میں شامل رہے جنہیں جنگ کے دوران اسرائیلی زمینی فوج نے حملے کر کے گرفتار کیا ہے۔ اسرائیلی فوج ہر فلسطینی کو گرفتار کرتے وقت حماس کا ساتھی قرار دے کر گرفتار کرتی ہے۔

جنوبی شہر رفح کے ہسپتال کے ڈائریکٹر مروان الحس نے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ اسرائیلی قید سے رہا ہونے والے تقریباً 20 افراد جسموں پر زخموں کے نشانات ہیں۔ اب دونوں رہائی پانے والے افراد کو النجر ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا ہے۔

اس کے باوجود اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ' اسرائیلی فوج بین الاقوامی قوانین کے مطابق قیدیوں کے ساتھ سلوک کرتی ہے۔ یہ بھی کہا ہے کہ قید کے دوران قیدیوں کو مناسب خوراک قواعد کے مطابق علاج کی سہولت بھی دی جا رہی ہے۔'

بائیس سالہ نائف علی نے بتایا ' مجھے غزہ شہر کے مشرقی زیتون کے مضافاتی علاقے سے حراست میں لیا گیا تھا۔ بعد میں اسے اسرائیلی حراستی مرکز میں لے جایا گیا تھا۔' نائف کی کلائیاں اور جسم کے دیگر حصے کٹے ہوئے تھے۔

نائف علی نے کہا دو ون تک ہمارے ہاتھ پیچھے کی طرف باندھ کر رکھا گیا۔ حتیٰ کہ ہمیں کچھ کھانے یا پینے کو بھی نہیں دیا گیا نہ اس کی اجازت تھی۔ ٹائلٹ تک جانے کی اجازت نہ دی جاتی تھی۔ صرف تشدد کیا جاتا تھا۔

علی نے کہا کہ حراست میں لیے گئے افراد کو اسرائیل کے ساتھ سرحد کے ساتھ ایک ایسے علاقے میں رکھا گیا تھا جہاں جمی ہوئی سردی کے باوجود ہمیں جیل منتقل کرنے سے پہلے ہم پر ٹھنڈا پانی پھینکا گیا اور بعد ازاں پھر تشدد کیا گیا۔'

خامس البردینی 55 سالہ فلسطینی ہیں۔ انہیں بھی حراست کے دوران اسی طرح تشدد کا نشانہ بنیا گیا ۔ ان کا کہان ہے تشدد کرتے ہوئے رات بھر ہمارے سروں پر ٹھنڈا پانی بہایا جاتا رہا۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں