کیا قذافی کے صحرا کی گہرائی میں دفن ہونے کا پوشیدہ راز کھل گیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

لیبیا کے مقتول سابق مرد آہن کرنل معمر قذافی کی ہر سال برسی کے ساتھ ان کے حامی ان کی قبر کو نامعلوم رکھنے کے پیچھے چھپے راز کے بارے میں دوبارہ سوال کرتے ہیں۔ لیکن یہ مطالبہ قذافی کے بیٹے سیف الاسلام کے آئندہ سال 28 اپریل کو سرت میں منعقد ہونے والی "جامع قومی کانفرنس برائے قومی مفاہمت" کی تیاریوں کے حالیہ اعلان سے قبل کیا گیا ہے۔

لیبیا کا یہ طاقت ور لیڈر باغیوں کے حملوں سے خائف آبائی شہر سرت میں روپش تھا مگر آخر کار باغی اس تک پہنچ گئے جہاں وہ ایک پائپ لائن میں چھپا ہوا خون میں لت پت، لڑکھڑاتا ہوا خالی ہاتھوں سے حملہ آوروں کا مقابلہ کررہا تھا۔

سیمنٹ کے پائپ کے اندر ایک خفیہ ٹھکانے میں پائے جانے کے چند منٹ بعد اسے اس کے بالوں سے گھسیٹا گیا، جب کہ اس کے ارد گرد جمع ہونے والے ہجوم نےچیخ کر کہاکہ "ہم نے قذافی کو پکڑ لیا ہم نے ظالم کو پکڑ لیا"۔

یہ قذافی کی زندگی کا آخری منظر تھا، جس نے چار دہائیوں سے زیادہ عرصہ اقتدار میں گذارا۔

خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے پریس فوٹوگرافر فلپ ڈیمازے نے اس وقت قذافی کی لاش کی تصویر بنائی جب اسےریفریجریٹر میں رکھا گیا تھا۔ اس کے بعد 20 اکتوبر 2011 قافی کی لاش کومغربی لیبیا کے شہر مصراتہ سے کسی نامعلوم مقام پر لے جایا گیا جہاں اسے خفیہ مقام پر صحرا میں دفن کردیا گیا تھا۔

فزان شہروں کی سپریم کونسل کے سربراہ الشیخ علی ابو سبیحہ نے کہا کہ "ہم نے قبل ازیں صدارتی کونسل سے کہا تھا کہ وہ مفاہمت کے عمل کو مکمل کرنے کے لیے نیک نیتی کا مظاہرہ کرے جس میں قذافی کی قبر کی نقاب کشائی اوردیگر کئی اقدامات شامل ہیں لیکن انہیں مثبت جواب نہیں ملا‘‘۔

ابو سبیحہ نے الشرق الاوسط اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ لیبیا کے حکام نے ملک سے باہر بے گھر ہونے والے قذافی کے خاندان پر بین الاقوامی دباؤ کو کم کرنے کے لیے کوششیں نہیں کیں جب کہ سابق حکومت کے دیگر وفادار قذافی کے دشمنوں کی جانب سے ان کی قبر کو خفیہ رکھنے کے پس منظر کے بارے میں حیران ہیں۔

قذافی اور ان کے بیٹے معتصم باللہ کو سرت میں قتل کر دیا گیا تھا۔ باغیوں نے ان کی لاشوں کو کسی نامعلوم مقام پر دفن کرنے سے پہلے ان کے شہرمصراتہ پہنچا دیا تھا۔ اس کے بعد سے سابق حکومت کے حامی قذافی، ان کے بیٹے اور ان کے وزیر دفاع ابو بکر یونس کی قبروں کی دریافت کا مطالبہ کر رہے ہیں اور اس کے لیے قانونی چارہ جوئی کر رہے ہیں لیکن ان کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔

مقامی میڈیا نے قذافی کے بھتیجے محمود عبدالحمید کے حوالے سے تینوں لاشوں کی تدفین کی کچھ تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ "انہیں غسل دینے اور نماز جنازہ کے بعد رات کے وقت ایک کار انہیں مصراتہ کے صحرا میں لے گئی۔ یہ سفر ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہا۔ اس دوران مسلح افراد ساتھ لائے گئے دوسرے لوگوں کو ادھر ادھر دیکھنے سے منع کرتے تاکہ انہیں راستے کا پتا نہ چلے۔

قذافی اور ان کے ساتھیوں کی لاشوں کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کے پیش نظر لیبیا کی سیاسی ترقی کی تنظیم کے سربراہ جمال الفلاح نے کہا کہ لاشوں کو دفنانے کا عمل اور اس کے بعد ہونے والی رازداری کا عمل اس طرح ہوا کہ قذافی کے ایک لیڈر ہونا تو دور کی بات انہوں نے ان لاشوں کے ساتھ عام انسانوں جیسا سلوک بھی نہیں کیا‘‘۔

الشرق الاوسط کو دیے گئے ایک انٹرویو میں الفلاح نے قذافی کے قتل کے بعد کے واقعات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ "سیاسی اسلام تحریک کے حامی جو صدر کے مخالف تھے ان کی قبر کو چھپانے کے عمل میں اس لیے شامل ہوئے کیونکہ انہیں ڈر تھا کہ قذافی کی قبر کو ان کے حامی ’مرجع’ اور مزار بنا لیں گے‘‘۔

مصراتہ میں "الصمود بریگیڈ" کے رہ نما صلاح بادی جسے بین الاقوامی سطح پر سزا یافتہ شخص سمجھا جاتا ہے وہ جو قذافی، ان کے بیٹے اور وزیر دفاع کی تدفین میں شریک تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ " لیبیوں کے درمیان ہم آہنگی اور اتحاد کے قیام کی صورت میں اس جگہ کو ظاہر کرنے کے لیے تیار ہیں جہاں قذافی اور ان کے ساتھیوں کی لاشیں دفن کی گئی تھیں‘‘۔ لیکن ابھی تک مصراتہ کے صحرا میں "پوشیدہ راز" سابق حکومت کے حامیوں کے مطالبات کے باوجود ظاہر نہیں کیا گیا۔

صلاح بادی نے قذافی کے مارے جانے والی رات کے مناظر کے بارے میں ایک سے زیادہ بار بات کی اور کہا کہ اس نے تینوں لاشوں کو اکیلے دفن نہیں کیا تھا بلکہ ان کے ساتھ ایک اور گروہ بھی تھا جس میں ان کو غسل دیا گیا، کفن دیا گیا اور ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی تھی۔ ان میں الشیخ خالد تنتوش بھی شامل تھے۔

جب ہم ان کو دفنانے سے فارغ ہوئے تو سرت سے ایک وفد ہمارے پاس آیا، جو معمر کی لاش چاہتا تھا ہم نے ان سے کہا کہ "ہمیں عمر المحیشی کی لاش چاہیے۔ جنہیں قذافی کے مخالفین میں شمار کیا جاتا تھا‘‘۔

لیبیا کے انسانی حقوق کے کارکن ناصر الھواری نے قذافی کے اہل خانہ کے ان کی قبر کی جگہ جاننے کے حق کا دفاع کیا۔ اشرق الاوسط کے ساتھ ایک انٹرویو میں انہوں کہا کہ '' رنجشوں کا وقت گزر چکا ہے۔ اب مفاہمت اور ہم آہنگی کا دور ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ مل کر وطن کی تعمیر کریں اور اس میں انصاف، قانون اور مساوات کی اقدار رائج کریں‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں