اربیل حملے کے بعد امریکا کی عراق میں حزب اللہ بریگیڈز کے ٹھکانوں پر بمباری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

شمالی عراق کے شہر اربیل میں بین الاقوامی اتحاد کے اڈے پر ڈرون حملے کے چند گھنٹے بعد امریکی ردعمل سامنے آیا جس میں عراق میں موجود حزب اللہ بریگیڈز کے ٹھکانوں پربمباری کی گئی ہے۔

امریکی محکمہ دفاع ’پینٹاگان‘ نے اعلان کیا کہ کل سوموار کو امریکی افواج نے عراق میں ایران کے وفادار دھڑوں کے زیر استعمال ٹھکانوں پر بمباری کی۔

انہوں نے منگل کو ایک بیان میں کہا کہ یہ حملے عراق اور شام میں امریکی ملازمین کے خلاف تہران کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کے حملوں کے جواب میں کیے گئے ہیں۔

انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ گذشتہ روز ایرانی حمایت یافتہ جنگجوؤں کی جانب سے اربیل ایئر بیس پر کیے گئے حملے کے نتیجے میں 3 فوجی زخمی ہوئے جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک ہے۔

عراق میں امریکی افواج

امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے زوردے کر کہا کہ ان حملوں کا مقصد ان ملیشیاؤں کی صلاحیتوں کو متاثر کرنا تھا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ان کا ملک خطے میں تنازعات کو بڑھانا نہیں چاہتا لیکن اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے سے دریغ نہیں کرے گا۔

جبکہ سکیورٹی ذرائع نے العربیہ/الحدث کو بتایا کہ امریکی بمباری نے ملک کے جنوب میں بابل گورنری اور واسط گورنری میں مسلح دھڑوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں