فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیلی فوج کی ’ڈاگ یونٹ‘ پر سوشل میڈیا پر کیوں تنقید کی جا رہی ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی فوج حماس کے خلاف اپنی فوجی مہم میں تربیت یافتہ کتوں کا کھلے عام استعمال کرتی ہے، جن میں سب سے اہم غزہ کی پٹی میں سرنگوں اور تباہ شدہ عمارتوں کی بھولبلییا کے اندرحماس کے خفیہ ٹھکانوں کا پتا چلانا ہے۔

اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ حال ہی میں اس نے غزہ میں ایک عمارت کے احاطے میں ویڈیو کیمرے سے لیس ایک کتے کو بھیجا تھا۔ تاہم کتا فائرنگ کے دوران مارا گیا مگر اس کی پشت پرنصب کیمرے میں اسرائیلی فوجیوں اور فلسطینی مزاحمت کاروں کے درمیان لڑائی کے مناظر کو محفوظ کرلیا تھا۔

اس مردہ کتے کی پشت پر نصب کیمرہ بعد میں برآمد ہوا۔اس نے ان تین اسرائیلیوں کو بھی ریکارڈ کرلیا تھا جنہیں بعد میں اسرائیلی بمباری میں ہلاک کردیا گیا تھا

اسرائیلی میڈیا نےاطلاع دی ہے کہ تربیت یافتہ کتے دھماکہ خیز مواد کا پتہ لگانے کی کارروائیوں میں حصہ لیتے ہیں اور غزہ کی پٹی میں سرنگوں اور دیگر علاقوں میں جہاں جال بچھائے جا سکتے ہیں میں فوجیوں کے داخل ہونے سے ان کتوں کو بھیجا جاتا ہے۔ جمعہ کوایک اور کتے کی ایک سرنگ کی تلاش کی ویڈیو سامنے آئی جس پر اسرائیلی آرمی ویڈیو نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "کتے بہت اچھا کام کر رہے ہیں"۔

گذشتہ نومبر میں اسرائیلی فوج نے سوشل میڈیا پر 4 کتوں کے مارے جانے کی خبر شائع کی تھی جنہوں نے حماس سے تعلق رکھنے والے دھماکہ خیز مواد کے جال اور ہتھیاروں کے ذخیرے کا پتہ لگانے میں مدد کی تھی۔ فوج کے ترجمان رچرڈ ہیچٹ نے کہا کہ اسرائیلی پولیس ڈاگ یونٹ میں شامل ہونے کے لیے 16 ماہ کے تربیتی کورس کے لیے سالانہ تقریباً 100 فوجیوں کو بھرتی کیا جاتا ہے۔

امریکی اخبار’نیویارک ٹائمز‘نے اس حقیقت کی طرف توجہ مبذول کرائی کہ "تربیت یافتہ کتوں کا یونٹ" بھی تنازعے اور تنقید کی زد میں ہے۔ اخبار کے مطابق اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کے کتے ایلیٹ کمانڈو یونٹس کی مدد کرتے ہیں اور فوجیوں کی جانیں بچاتے ہیں۔ تاہم انسانی حقوق کے کارکنان لوگوں کو ڈرانے کے لیے ان کے نامناسب استعمال پر تنقید کرتے ہیں۔ گذشتہ اتوار کو غزہ کے کمال عدوان ہسپتال کے شعبہ اطفال کے سربراہ حسام ابو صفیہ نے الزام لگایا کہ اسرائیلی فوج نے حملہ آور کتوں کو ہسپتال کے اندر چھوڑ دیا تھا جنہوں نے وہاں پرموجود مریضوں اور زخمیوں کو پریشان کیا۔ انہوں نے واقعے کی بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

ایک فوجی ترجمان نے ان الزامات پر تبصرہ کرنے کے لیے نیویارک ٹائمز کی درخواست کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔ پچھلے ستمبر میں غزہ میں جنگ شروع ہونے سے پہلے اسرائیل میں انگریزی زبان کے اخبار ہارٹز نے مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے گھروں کی تلاشی لینے والے فوجیوں کے بارے میں ایک رپورٹ شائع کی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ اسرائیلی فوج چھاپوں کے دوران شہریوں کو خوف زدہ کرنے کے لیے کتوں کا استعمال کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں