فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیل: غزہ جنگ کے لیے فروری تک کے بجٹ کی منظوری، بجٹ خسارہ تین گنا ہوگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل کی غزہ مں حماس کے خلاف جنگ کے لیے کم از کم 14 ارب ڈالر کی ضرورت ہوگی۔ یہ اندازہ ماہ فروری تک کے لیے جاری کیے گئے جنگی بجٹ پلان میں بتایا گیا ہے۔ اسرائیلی وزارت خزانہ کے مطابق جنگی اخراجات کے نتیجے میں بجٹ کا مجموعی خسارہ 3 گنا تک پھیل سکتا ہے اور یہ بجٹ تخمینہ فروری تک کے جنگی منصوبے کے پس منظر میں لگایا گیا ہے۔

اسرائیلی قانون سازوں کو جنگی بجٹ کے سلسلے میں بریفینگ دیتے ہوئے بجٹ کمشنر اتائی تمکین نے کہا اندازہ کیا جا رہا ہے کہ جنگ 2024 کے پہلے دو میہنوں میں جاری رہے گی۔ جس کے لیے 30 ارب شیکل جنگی اخراجات کے لیے اور 20 ارب شکل جنگ کے دوران سویلینز پر خرچ کرنے کے لیے درکار ہوں گے۔ یہ رقم مجموعی طور پر 14 ارب ڈالر ہوگی۔

بجٹ کمشنر نے پارلیمان کی فنانس کمیٹی کو بتایا جنگ کے معاشی اخراجات 48 ارب شیکل سے زیادہ ہوجائیں گے۔ اس سے قطع نظر کہ اخراجات کا شروع میں تخمینہ کیا تھا اور کتنے وسائل مختص کیے گئے تھے۔

فنانس کمیٹی کو بتایا گیا ہے کہ جنگ کی وجہ سے بجٹ خسارہ ملکی شرح نمو کے 5 اعشاریہ 9 فیصد تک جا سکتا ہے۔ جبکہ اس سے پہلے اندازہ 2 اعشاریہ 25 فیصد کا تھا۔ گویا تقریبا 3 گنا اضافہ ہو رہا ہے۔

بجٹ کمشنر نے بتایا اگلے سال میں خسارے کی سطح بلند ہو کر 75 ارب شیکل سے 114 ارب شیکل تک جا سکتی ہے۔ اس خسارے کو پورا کرنے کے لیے مختف شعبوں کے اخراجات میں کٹوتیاں کرنے کے ساتھ ساتھ عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھانا پڑے گا۔

ایک سوال کے جواب میں بجٹ کمشنر نے کہا کہ ابھی یہ اندازہ نہیں لگایا جا سکتا کہ یہ جنگ مارچ 2024 کے بعد بھی جاری رہے گی یا نہیں۔ البتہ کچھ دیر بعد شاید اس کا اندازہ لگانا آسان ہو جائے کہ غزہ میں جنگ کتنی لمبی جا سکتی ہے۔

واضح رہے پارلیمان نے اس سال خصوصی جنگی بجٹ کی منظوری دی تھی جو کہ 30 ارب شیکل تھا۔ اس دوران موشے گافنی چیئرمین فنانس کمیٹی نے کہا ہم نے حکومت پر زور دیا ہے کہ عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھانے کے بجائے بینکوں کے منافع سے پیسہ نکالا جائے۔ یا دوسرے طریقے اختیار کیے جائیں۔ عوام پر جنگ کا مالی بوجھ نہ ڈالا جائے۔

وزیر خزانہ بزالیل سموتریچ نے بعد ازاں رپورٹرز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا 'وہ اس مقصد کے لیے کام کریں گے کہ جنگ کا معاشی بوجھ شہریوں پر مزید نہ بڑھایا جائے۔ ان کی کوشش ہوگی کہ 2024 میں ریزرو فوج کے اہلکاروں اور ان کے اہل خانہ پر زیادہ اخراجات کیے جائیں۔'

خیال رہے اسرائیل نے ساڑھے3 لاکھ ریزرو فوجیوں کو غزہ کی جنگ میں جھونک رکھا ہے۔ وزیر خزانہ سموتریچ نے ان کے بارے میں ہمدردی کا انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ 'ریزرو فوجی اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر ہماری جنگ لڑ رہے ہیں۔ اس لیے ہم ان کے لیے وسیع پیمانے پر مراعات کا اہتمام کرنا چاہتے ہیں۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں