دمشق میں ایرانی پاسداران کمانڈر اسرائیلی میزائل حملے میں ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کی پاسداران انقلاب کور کے اہم کمانڈر اور مقتول سربراہ قاسم سلیمانی کے قریبی ساتھی بریگیڈیئر جنرل سید رضی موسوی پیر کے روز شام میں ہلاک ہوگئے۔ انھیں اسرائیلی فوج نے ایک میزائل حملے سے نشانہ بنایا۔ ایران نے ہلاکت کی خبر کی تصدیق کرتے ہوئے انتباہ کیا ہے کہ اسرائیل سے اس کا بدلہ لیا جائے گا۔

ایران کی طرف سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ بریگیڈیئر جنرل سید رضی موسوی دمشق میں مشیر کے طور پر کام کر رہے تھے۔ جن پر اسرائیل نے مجرمانہ حملہ کیا۔ جو اس کی مایوسی، بےچارگی اور نااہلیت کا کھلا ثبوت ہے۔ یقیناً اس کی اسرائیل کو قیمت چکانا ہوگی۔

بتایا گیا ہے کہ بریگیڈیئر جنرل موسوی ایرانی حمایت یافتہ مزاحمتی گروپوں کو لاجسٹک کے شعبے میں مدد دینے کے لیے شام میں موجود تھے۔ یہ بات ایرانی حمایت یافتہ ایک گروپ کے حوالے سے کہی گئی ہے۔

قاسم سلیمانی(دائیں جانب) سید رضی موسوی(بائیں جانب)
قاسم سلیمانی(دائیں جانب) سید رضی موسوی(بائیں جانب)

جاری کردی بیان میں کہا گیا ہے کہ بریگیڈیئر جنرل موسوی پاسداران انقلاب کور کے مقتول کمانڈر قاسم سلیمانی کے بہت قریبی ساتھیوں میں سے تھے۔ قاسم سلیمانی کو 2020 میں ایک فضائی حملے کے دوران امریکہ نے عراق میں ہلاک کر دیا تھا۔ مقتول سلیمانی کے بعد ایرانی پاسداران انقلاب کو بیرون ملک ایک بار پھر ایک بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

حآلیہ برسوں کے دوران اسرائیل نے شام میں سینکڑوں بار بمباری کی ہے اور ایرانی حمایت یافتہ گروپوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایران کے حمایت یافتہ گروپ شام کے بشار الاسد کے حمایتی اور مددگار ہیں جو 2011 سے مسلسل بشار الاسد کی حمایت کے لیے موجود ہیں۔

ایرانی کمانڈر موسوی کی ہلاکت 7 اکتوبر سے غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ کے دورانیے میں ایران کا ایک براہ راست اور بڑا نقصان ہے۔ اس سے پہلے غزہ میں اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں 20 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں