غزہ میں ایک اور خونی دن، اسرائیلی بمباری میں 250 فلسطینی شہید، 500 زخمی

سات اکتوبر سے شروع جنگ میں 20674 فلسطینی جاں بحق، 54536 زخمی، زمینی کارروائی میں ہلاک صہیونی فوجیوں کی تعداد 156 ہوگئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

غزہ کی جنگ کے 80 ویں دن اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں شدید بمباری کی، مغربی کنارے کے شہر بیت لحم میں فلسطینیوں کے لیے کرسمس کی ایک اداس رات کے بعد شہری فاقہ کشی کا شکار ہیں۔ فلسطینی عوام کے مصائب کے خاتمے کے لیے کسی فوری جنگ بندی کے آثار نظر نہیں آ رہے۔ اہالیان غزہ کو ایک ناقابل بیان انسانی المیے کا سامنا ہے۔ علاقے میں قحط کا منظر ہے اور پٹی میں ہر طرف تباہی کے مناظر ہیں اور تمام مکینوں کے اسرائیلی جارحیت یا بھوک کے باعث ختم ہوجانے کے خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔

حالیہ پیش رفت میں فلسطینی طبی حکام نے بتایا کہ وسطی غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فضائی حملے میں مرنے والوں کی تعداد 106 ہو گئی ہے۔ یہ اعلان اتوار کی شب المغازی پناہ گزین کیمپ میں ہونے والے فضائی حملے کو غزہ پر مہلک ترین فضائی حملوں میں شامل کر رہا ہے۔ وزارت صحت نے بتایا کہ سات اکتوبر کے بعد سے غزہ میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 20674 اور زخمیوں کی تعداد 54536 ہوگئی ہے۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 250 فلسطینیوں جاں بحق ہوگئے ہیں۔

پیر کو ہی اسرائیلی فوج نے وادی غزہ کے قریب البریج کیمپ کے مکینوں سے فوری طور پر انخلا کا مطالبہ کیا۔ العربیہ اور الحدث کے نامہ نگار نے غزہ کی پٹی کے اطراف میں واقع بستیوں پر دوبارہ میزائلوں کی بمباری کی اطلاع دی۔

اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی کے وسطی علاقے دیر البلح کے مغرب میں واقع شیخ محمد الیمانی کالونی میں انسانی مقاصد کے لیے مقامی وقت کے مطابق صبح دس بجے سے دوپہر دو بجے تک فوجی سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اسرائیلی فوجی ترجمان اویچائی ادرائی نے ’’ایکس‘‘ پر کہا کہ فوج خان یونس کے مغرب میں واقع بائی پاس کے ذریعے شہریوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر نقل و حرکت کی اجازت دے گی۔

کرسمس کے موقع پر غزہ کی پٹی میں بمباری ایک لمحے کے لیے بھی نہیں رکی۔ پیر کی صبح فلسطینی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ جنوبی غزہ کی پٹی میں خان یونس میں ایک گھر پر اسرائیلی فوج کے چھاپے میں 23 افراد جاں بحق ہو گئے۔ الزوائدہ کے چھوٹے سے گاؤں کے قریب بھی ایک بم دھماکے میں 12 افراد چل بسے۔

اسرائیل نے غزہ کی پٹی کے مرکز پر لگاتار پچاس کے قریب حملے کیے۔ گزشتہ تین دنوں میں غزہ میں 15 سے زیادہ اسرائیلی فوجی مارے گئے ہیں۔ اس طرح غزہ میں زمینی کارروائی کے آغاز کے بعد سے ہلاک اسرائیلی فوجیوں کی تعداد 156 ہوگئی ہے۔ اسرائیلی فوج کے پریس آفس کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک 80 دنوں میں ہلاک ہونے والے اسرائیلی فوجیوں کی کل تعداد 489 ہو گئی ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اتوار کو کہا تھا کہ ہم جنگ کی بہت بڑی قیمت چکا رہے ہیں لیکن ہمارے پاس لڑائی جاری رکھنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ پیر کو نیتن یاھو نے کہا ہے کہ اگلے دنوں میں غزہ پر کارروائیاں مزید تیز کریں گے اور یہ لڑائی جلد ختم نہیں ہوگی بلکہ دیر تک چلے گی۔

یاد رہے حماس نے 240 کے قریب اسرائیلیوں کو یرغمال بنایا تھا۔ 129 اسرائیلی اب بھی حماس کی قید میں ہیں۔

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ غزہ میں انسانی صورتحال بدستور تباہ کن ہے۔ وہاں کے زیادہ تر ہسپتال سروس فراہم کرنے سے قاصر ہوگئے ہیں۔ اگلے چھ ہفتوں میں پوری آبادی کو خوراک کی عدم تحفظ کے اعلیٰ سطح کے خطرے کا سامنا ہے جو قحط کا باعث بن سکتا ہے۔ سلامتی کونسل نے غزہ میں انسانی امداد بڑھانے کے لیے ایک قرار داد منظور کی ہے لیکن اس کے بعد بھی امدادی سامان کی ترسیل میں اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا ہے۔

لڑائی کے دوران سات روز تک عارضی جنگ بندی کے دوران حماس کے ہاتھوں یرغمال 105 افراد کی رہائی کے بدلے 240 فلسطینی قیدیوں کو رہائی ملی تھی۔ اب نئی جنگ بندی کے لیے مصری اور قطری ثالث کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں