غزہ میں 5 یرغمالیوں کی لاشیں ملنے کے بعد اسرائیل نے اعلان کرنے میں دیر کیوں کی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ کی ایک رپورٹ میں غزہ کی پٹی کے شمالی علاقے جبالیا کے قریب 5 اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشیں ملنے کی نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ اتوار کی شام اسرائیلی فوج نے جبالیا میں زیر زمین سرنگوں کے نیٹ ورک سے پانچ اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشیں برآمد کرنے کا اعلان کیا۔ وہ حماس کے زیر حراست مارے گئے تھے۔ ہلاک ہونے والے 5 یرغمالیوں میں 3 فوجی اور 2 عام شہری تھے۔

تاہم اسرائیلی اخبار کا کہنا ہے کہ یہ لاشیں ایک ساتھ نہیں ملیں کیونکہ فوج کو تقریباً دو ہفتے قبل دو لاشیں ملی تھیں۔ پھر کچھ دن بعد تین لاشیں پہلی جگہ کے قریب ہی ایک دوسری جگہ سے ملی تھیں۔

اسرائیلی اخبار نے مزید بتایا کہ فوج نے صرف پہلی دو لاشوں کی دریافت کا اعلان کیا اور باقی تین لاشوں کا اعلان کرنے سے اس وقت تک گریز کیا کہ علاقے میں اسرائیلی فوج نے اپنی کارروائیاں مکمل کرلے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اسرائیلی فوج کو خدشہ تھا کہ مزید یرغمالیوں کی ہلاکت کا اعلان کرنے سے اس کے لیے خطرات بڑھ جائیں گے۔

اسرائیلی فوج نے حراست میں لیے گئے افراد کی ہلاکت کے وقت کے بارے میں کوئی واضح نتیجہ فراہم نہیں کیا اور فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی فرانزک تحقیقات ابھی جاری ہیں۔

یروشلم پوسٹ نے بتایا کہ جس سرنگ میں لاشیں ملی ہیں وہ چوڑی تھی، اور اس میں ایک لفٹ اور بڑے کمرے شامل تھے۔ اس سرنگ کو سائیڈ رومز میں تقسیم کیا گیا تھا۔ اسرائیلی افواج نے پوری سرنگ کو اڑانے کے لیے 13 ٹن دھماکہ خیز مواد استعمال کیا جس میں کافی وقت لگا۔

اسرائیلی فوج کے ایک ذریعے نے بتایا کہ لاشوں کی تلاش کے لیے میدان میں لڑائیوں کے دوران جمع کی جانے والی دیگر معلومات کے ساتھ ساتھ پہلے سے موجود انٹیلی جنس معلومات کا مجموعہ درکار ہوتا ہے۔

پیر کو اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس میں بتایا گیا کہ تل ابیب غزہ میں تحریک حماس کے رہنما یحییٰ السنور اور محمد الضیف کی قسمت کے حوالے سے ایک نئے آپشن پر غور کر رہا ہے۔

ٹائمز آف اسرائیل کی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل سنوار اور ضیف دونوں کو قتل نہ کرنے اور انہیں کسی قسم کا استثنیٰ دینے کے آپشن پر غور کر رہا ہے تاکہ اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے ان دونوں کو دوسرے ملک بھیج دیا جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں