فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ کے عیسائیوں نے چرچ کے کھنڈرات کے درمیان کرسمس منائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

غزہ کی مختصر مسیحی برادری کے درجنوں ارکان نے اتوار کو کرسمس کے موقع پر غزہ شہر کے ہولی فیملی چرچ میں ایک سروس کا انعقاد کیا جسے انہوں نے پناہ گاہ کے طور پر بھی استعمال کیا ہے۔

یہ غزہ شہر کا واحد کیتھولک چرچ ہے اور اسرائیل کی جنگ شروع ہونے کے بعد جب سینکڑوں ہزاروں لوگ پٹی کے جنوب میں بے گھر ہوگئے تھے تو متعدد عیسائیوں نے گرجا گھر کے اس حلقے میں پناہ لی تھی۔

سروس اتوار کے آخر میں منعقد کی گئی تھی لیکن بار بار انٹرنیٹ کی بندش کی وجہ سے تفصیلات پیر کو ہی سامنے آئیں۔

گرجا گھر کا حلقہ جو وہاں کے رہائیشیوں کے لیے ایک محفوظ جگہ سمجھی جاتی ہے، وہاں اس ماہ کے شروع میں اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں اس کے دو وفادار ہلاک ہو گئے۔

کرسمس سے چند دن پہلے یروشلم کے لاطینی سرپرست نے کہا کہ غزہ میں چرچ کے احاطے میں دو عیسائی خواتین اسرائیلی اسنائپر کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئیں۔

ان خواتین کے قتل کا حوالہ دیتے ہوئے پوپ فرانسس نے بھی اس ماہ کے اوائل میں کہا تھا، "غیر مسلح شہریوں پر بمباری اور گولیاں چلائی جا رہی ہیں اور یہ ہولی فیملی گرجا گھر کے حلقے کے اندر بھی ہوا ہے جہاں دہشت گرد نہیں ہیں بلکہ خاندان، بچے اور معذوری کے حامل بیمار لوگ اور راہبائیں ہیں۔

اسرائیلی فوج نے کہا کہ فوجی اس علاقے میں حماس کے مزاحمت کاروں کو نشانہ بنا رہے تھے؛ فوج نے کہا کہ وہ اس واقعے کی تحقیقات کر رہی تھی اور ایسی رپورٹوں کو بہت سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔

کمال ایاد ان لوگوں میں شامل تھے جن کی اہلیہ اور بیٹی فائرنگ میں جاں بحق گئیں۔

ایاد نے کہا، "یہ عید نہیں ہے۔ یہ فلسطینی عوام، ہماری عیسائی قوم اور ہماری اسلامی قوم کے لیے درد کی عید ہے۔"

انہوں نے کہا کہ ان کی واحد خواہش امن اور جنگ بندی کی امید تھی۔

جنگ نے غزہ کا بڑا حصہ تباہ کر دیا ہے، 20,600 سے زیادہ فلسطینی جاں بحق اور علاقے کے تقریباً 2.3 ملین افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے حکام نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے علاقے کا محاصرہ رسد کی معمولی سی فراہمی کی ہی اجازت دیتا ہے جس کی وجہ سے فلسطینیوں کی ایک چوتھائی آبادی فاقوں کا شکار ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں