فلسطین اسرائیل تنازع

فلسطینیوں پر ظلم کے خلاف آواز اٹھانے والا اسرائیلی نوجوان پابند سلاسل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی انتہا پسند حکومت کی طرف سے غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف شروع کی گئی وحشیانہ جنگ پر اسرائیل کے نوجوانوں میں بھی سخت تشویش پائی جا رہی ہے۔

مگر نیتن یاھو کی آمریت کے سامنے بے بس اسرائیلی نوجوان کم ہی آواز اٹھانے کی جرات کرتے ہیں۔ ایسا کرنے والوں کو سخت سزا کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اسرائیل کے ایک 18 سالہ نوجوان نے غزہ کی پٹی پر بمباری کی مذمت کرتے ہوئے نیتن یاھو کی ڈکٹیٹر کے خلاف بھی آواز اٹھائی ہے مگر اس کی پاداش میں اسے جیل میں ڈال گیا گیا ہے۔

"آمریت کے خلاف نوجوان"

"آمریت کے خلاف نوجوان" کے عنوان کے تحت نوجوان اسرائیلیوں نے اپنے آپ کو "زندہ ضمیر ضمیر کے لوگوں" کے طور پر بیان کیا ہے۔ وہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیل کے قبضے کومسترد کرتے ہیں۔

ان میں 18 سالہ تال میتنک بھی شامل ہے، جسے آنے والے دنوں میں جیل کی سزا کا سامنا ہے۔ اسے جیل میں ڈالنے کی وجہ فوج میں ضروری خدمات انجام دینے سے انکار اور غزہ جنگ کی مخالفت کی پاداش انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

اس سے معلوم ہوا کہ اسرائیل میں نوجوان یہودیوں کا ایک محدود طبقہ تال جیسی سوچ رکھتا ہے اور اس کی قیمت بھی چکا رہا ہے۔ وہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیل کے غیر قانونی قبضے، غزہ کی پٹی پر بمباری اور شہریوں کے قتل کی مخالفت کرتے ہیں۔ .

میتنک کے خیال میں 7 اکتوبر کے بعد پہلا دن "سیلف ڈیفنس" تھا لیکن پھر یہ عام شہریوں کے خلاف جنگ میں بدل گیا۔ غزہ کی پٹی پر پرتشدد اسرائیلی بمباری میں اڑھائی ماہ میں بیس ہزار سے زائد فلسطینی مارے جا چکے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ "میں اس خیال کو مسترد کرتا ہوں کہ غزہ میں شہریوں کو مارنے سے کسی کو بھی سلامتی حاصل ہو گی۔ اس سے کسی کو بھی سلامتی حاصل نہیں ہو گی۔ نہ ہی غزہ کے لوگوں کو اور نہ ہی اسرائیل کو سلامتی حاصل ہو گی۔ میرا ماننا ہے کہ سلامتی کا واحد راستہ ہے امن بقائے باہمی ہے"۔

تل ابیب کے جنوب میں بٹ یام کے علاقے میں رہنے والے اس نوجوان نےکہا کہ اسرائیلی فوج فلسطینیوں کے ساتھ ناانصافی کر رہی ہے۔ اس نے وضاحت کی کہ اس نے ثانوی تعلیم مکمل کر لی ہے اور وہ فوجی خدمات انجام دینے سے انکار کر دے گا۔ اس نے کہا کہ اسرائیلی فوج صرف فلسطینیوں کو دبانے کی کوشش کرتی ہے۔

اس نے نشاندہی کی کہ جو لوگ اسرائیل میں ان کی طرح سوچتے ہیں وہ اقلیت میں ہیں، لیکن حالات آہستہ آہستہ تبدیل ہونے لگے ہیں۔

انہوں نے حماس کے غزہ کی پٹی پراسرائیلی بستیوں پر گذشتہ 7 اکتوبر کو کیے گئے حملے کو "خوفناک" قرار دیا، جس کے بعد لوگوں کا غصہ انتقامی جذبات میں بدل گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں