لاپتا سعودی اور کویتی سیاحوں کی نعشیں عراق کے صحرا سے مل گئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

گذشتہ ایک ہفتے سے لاپتہ سعودی اور کویتی سیاحوں کی نعشیں عراق کی الانبار کمشنری کے صحرائی علاقے سے ملی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق کویتی وزیر خارجہ شیخ سالم عبداللہ الجابر الصباح نے بتایا ’عراقی فورسز لاپتا کویتی اورسعودی سیاحوں کا سراغ لگانے میں کامیاب رہیں‘۔ دونوں کی نعشیں عراق کے صحرائی علاقے سے ملیں۔

عراقی پولیس مذید تحقیقات کر رہی ہے۔ توقع ہے معاملے کو جلد سلجھتے ہوئے ملزمان کی شناخت ہو جائے گی۔

کویتی وزیر خارجہ کا کہنا تھا’ بغداد میں کویتی سفارخانے کے اہلکار ضروری کارروائی کررہے ہیں تاکہ واقعہ کے بارے میں مکمل رپورٹ حاصل کی جاسکے‘۔

عراقی پولیس نے گزشتہ اتوار کو لاپتا ہونے والے کویتی اور سعودی سیاحوں کی وسیع پیمانے پر تلاش شروع کی تھی۔

پولیس ٹیم کو دونوں سیاحوں کی نعشیں الانبار اور صلاح الدین کمشنری کے درمیان صحرائی علاقے سے ملی جبکہ ان کی گاڑی جل کر تباہ ہو چکی تھی۔

دریں اثنا عراقی تحقیقاتی آفیسر کا کہنا ہے ’دونوں سیاحوں کو صحرا میں شکار کھیلنے کے دوران اغوا کیا گیا‘۔ ’خدشہ ہے یہ واردات الانبار اور صلاح الدین کمشنری کے درمیانی صحرائی علاقے میں کی گئی‘۔

سکیورٹی فورس کے ایک اور ذمہ دار کا کہنا تھا ’ابتدائی تحقیقات کے مطابق اغوا کاروں کی جانب سے دونوں سیاحوں کی گاڑی کو ٹارگٹ کیا گیا تھا جس کے بعد ان کا مواصلاتی رابطہ منقطع ہو گیا‘۔

تاہم ابھی تک کسی بھی گروپ کی جانب سے واردات کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی ہے۔ کہا جاتا ہے صحرائی علاقہ جہاں چھپنے کے بے شمار مقامات ہیں۔ دہشت گرد تنظیم داعش سرگرم عمل ہے۔

واضح رہے بیشتر خلیجی ریاستوں سے آنے والے شکاری عراق کے جنوب، مغربی صحرائی علاقے میں بازوں کی تلاش میں جاتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں