کیا غزہ میں ٹیکنوکریٹک حکومت بننے جا رہی ہے، پی ایل او کیا کہتی ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

جنگ کے بعد غزہ میں حکومت کے انتظام کے لیے ایک مصری اور امریکی تجویز کے بارے میں حال ہی میں خبریں سامنے آنے کے بعد فلسطین لبریشن آرگنائزیشن [پی ایل او] نے اس معاملے کی تردید کی ہے۔

’پی ایل او‘ کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن احمد مجدلانی نے کہا کہ فلسطینی اتھارٓٹی کو مصر کی جانب سے مغربی کنارے اور غزہ کا ایک ساتھ انتظام کرنے کے لیے ایک ٹیکنوکریٹک حکومت کے قیام کے لیے کوئی باضابطہ تجویز موصول نہیں ہوئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ "اسرائیل کا موقف واضح ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں غزہ کی پٹی کے خلاف جنگ بندی اور جارحیت جاری رکھنے کے لیے امریکی کور اور حمایت حاصل ہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ہمیں دو بین فیصلوں کا سامنا ہے۔ ایک وصیت جسے امریکا نے اپنایا اور اس کے بعد کئی یورپی ممالک غزہ کے خلاف جارحیت جاری رکھنے میں مدد کی۔ اسرائیل کو سیاسی اور سفارتی کور اور لاجسٹک اور مالی مدد فراہم کیا گیا"۔

انہوں نے وضاحت کی کہ "دوسری بین الاقوامی پوزیشن غزہ پر بمباری کو روکنا اور ایک سیاسی حل کے لیے راستہ کھولنا ہے۔ یہ موقف چار جون 1967ء سے پہلے والی پوزیشن پر ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی طرف لے جاتا ہے"۔

اسرائیلی بمباری کے بعد غزہ کی تباہی کا منظر
اسرائیلی بمباری کے بعد غزہ کی تباہی کا منظر

اسرائیل پر کوئی دباؤ نہیں

احمد مجدلانی نے زور دے کر کہا کہ "اب تک ہمیں غزہ پر جنگ روکنے کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کا کوئی عنصر نظر نہیں آتا ہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ہم جنگ کے نتائج کا جائزہ لینے کے مرحلے میں نہیں ہیں، لیکن یہ کہہ رہے ہیں کہ اس سے کچھ حاصل نہیں ہوا۔ اس کا جائزہ لینا چاہیے۔ شہریوں کے گھروں اور بنیادی سہولیات کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ اسرائیل نے غزہ کو ناقابل رہائش بنا دیا ہے۔

مجدلانی نے نشاندہی کی "امریکا کہتا ہے کہ وہ اسرائیلی حکومت پر دباؤ نہیں ڈال سکتا، لیکن حقیقت میں وہ اس پر دباؤ ڈالنا ہی نہیں چاہتا"۔

مصری تجویز

یہ بیانات اسرائیلی حکام کی رپورٹ کے بعد سامنے آئے ہیں کہ جس میں کہا گیا ہے کہ مصر نے تین نکاتی تجویز پیش کی ہے جس میں غزہ میں دو ہفتے کی جنگ بندی اور 40 اسرائیلی قیدیوں کی رہائی، پھر فلسطینی "ٹیکنو کریٹک" حکومت کی تشکیل، جس کے بعد باقی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا۔ اس دوران اسرائیلی فوج کے غزہ سے مکمل انخلاء کی تجویز شامل ہے‘‘۔

دو مصری سکیورٹی ذرائع نے کل سوموار کو ’رائیٹرز‘ کو بتایا کہ حماس اور اس کے ساتھ اتحادی اسلامی جہاد نے مستقل جنگ بندی کے بدلے غزہ کی پٹی کا کنٹرول چھوڑنے کی مصری تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔

تاہم بعد میں حماس نے تصدیق کی کہ مکمل جنگ بندی سے قبل اسرائیل کے ساتھ کوئی ڈیل یا بات چیت نہیں ہوگی۔

اسرائیلی جنگ سے تباہ وبرباد ہونے والی محصور غزہ کی پٹی میں جنگ بندی تک پہنچنے کے لیے کئی دنوں سے قاہرہ میں فلسطینی دھڑوں کے ساتھ مذاکرات ہو رہے ہیں۔ تاہم، ابھی تک فلسطینی دھڑوں کے ساتھ قاہرہ میں ہونے والے مذاکرات کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا ہے۔

قطر اور امریکا نے اس سے قبل اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان ایک معاہدے کی ثالثی کی کوشش کی تھی، جس کی وجہ سے گذشتہ نومبر کے آخر میں دونوں فریقوں کے درمیان عارضی جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ ہوا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں