’نیتن یاہو کی میز کے نیچے نصب بم اچانک پھٹنے کی ویڈیو کیسی ہے؟‘‘

ایران کی فرضی ویڈیو کا مقصد اپنے ایک عسکری عہدیدار کی شام میں ہلاکت کے بعد تل ابیب کو دھمکی آمیز پیغام دینا ہے۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شام کے دارالحکومت دمشق کے مضافات میں اسرائیلی فضائی حملے کے بعد ایرانی پاسداران انقلاب کے ایک اہم مشیر راضی موسوی کے قتل کا جواب دینے کے لیے ایرانی حکام کی دھمکیوں کے جلو میں کل پیر کو ایک بالواسطہ ایرانی "خطرہ" سامنے آیا ہے۔ .

نیم سرکاری ایرانی مہر ایجنسی نے ایک ویڈیو نشر کی جس میں اسرائیلی منی گورنمنٹ کے اجلاس کی نقالی کی گئی، جس میں وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے شرکت کی۔ وہ بہ ظاہر ملٹری کمانڈرزکے ساتھ میز پر بیٹھے نظر آئے۔

اس فرضی ویڈیو میں نیتن یاہو کی میز کے نیچے ایک بم نصب نظر آیا۔

اس ویڈیو کو دیے گئے عنوان سےظاہرہوتا ہے کہ ایران میں اسرائیل کے خلاف کیسی نفرت پائی جا رہی ہے۔ویڈیو کا عنوان "قاسم سلیمانی کے ساتھی کو قتل کرنے کے بعد نیتن یاہو کا انتظار کر رہا ہے"۔ یہ عنوان بالواسطہ دھمکی یا پروپیگنڈہ ہے جس کا مقصد اسرائیلیوں کے اعصاب پر دباؤ ڈالنا ہے۔

"آپ کو قیمت چکانا ہوگی"

گذشتہ روز دمشق میں ایرانی سفیرحسین اکبری نے ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن سے بات کرتے ہوئے کہا کہ راضی موسوی سفارت کار کے طور پر سفارت خانے میں تعینات تھے۔ انہیں کام سے گھر واپس آنے کے بعد اسرائیلی میزائلوں سے مارا گیا۔

دریں اثناء ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کا کہنا ہے کہ ان کا قتل "اسرائیل کی بزدلی، شکست اور کمزوری" کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام علاقے میں صیہونی حکومت کی نااہلی اور کمزوری کی نشاندہی کرتا ہے اور اسے یقیناً اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔

ایرانی سائنسدان محسن فخرزادہ
ایرانی سائنسدان محسن فخرزادہ

پاسداران انقلاب نے ایک بیان میں زور دیا کہ اسرائیل موسوی کے قتل کی قیمت ادا کرے گا۔ وہ پاسداران انقلاب میں بریگیڈیئر جنرل کے عہدے پر فائز تھے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی نے وضاحت کی کہ ان کا ملک "مناسب وقت اور جگہ پر اس کارروائی کا جواب دینے کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے"۔

برسوں پہلے سے اسرائیل شام میں ایران سے منسلک اہداف کے خلاف حملے شروع کرتا آیا ہے۔ سنہ 2011ء میں شروع ہونے والی جنگ میں شام کے صدر بشار الاسد کی حمایت کے بعد سے تہران کا اثر و رسوخ بڑھ گیا ہے۔

گذشتہ چند سالوں کے دوران تہران نے اسرائیلی موساد پرایران کے اندر قتل عام کرنے کا الزام بھی لگایا ہے۔ قتل کے ان بڑے واقعات میں نومبر2020ء میں ایران کے سینیر سائنسدان محسن فخری زادہ کا قتل بھی شامل ہے جس میں ایران نے اسرائیل کو مورد الزام ٹھہرایا تھا۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے کئی بار فخری زادہ کے قتل کی دھمکی دی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں