اسرائیلی صحافی کی ویڈیو نے غزہ کے بچوں، برزگ افراد کی تضحیک کا بھانڈا پھوڑ دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے غزہ کے نوجوان اور بزرگ سمیت بچوں کے ساتھ تضحیک آمیز رویے کی ایک اور فوٹیج منظر عام پر آ گئی ہے۔

یہ ویڈیو مبینہ طور پر اسرائیلی فوٹو جرنلسٹ کی جانب سے جاری کی گئی ہے۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ غزہ کے ایک اسٹیڈیم میں درجنوں فلسطینیوں کو برہنہ کرکے اسرائیلی فوجی انہیں قطار میں کھڑا کرنے کی ہدایات دے رہے ہیں۔

درجنوں فلسطینیوں میں نوجوان اور بزرگ سمیت بچے بھی شامل ہیں جن کے ہاتھ کمر کے پیچھے باندھ دیے گئے ہیں۔

رپورٹس میں بتایا جارہا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے کھلے میدان میں جانے سے قبل فلسطینی نوجوان، بزرگ اور بچوں کو مبینہ طور پر بدسلوکی کا نشانہ بنایا۔

ویڈیو فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوجی اپنی بندوقیں حراست میں لیے گئے فلسطینیوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں، جنہیں مخصوص علاقوں میں بیٹھنے سے پہلے اپنے ہاتھ ہوا میں بلند کیے میدان میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یورو میڈ ہیومن رائٹس مانیٹر نے 20 دسمبر کو کہا تھا کہ اسرائیلی فوج عام شہریوں کے گھر چھاپے ماررہی ہے جس کے بعد انہیں حراست میں لے کر ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

اس کے علاوہ اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر ویڈیو شئیر کی گئی ہیں جس میں انہیں غزہ کے خالی میدانوں میں کھیلتے، گنگناتے اور رقص کرتے دیکھا جا سکتا ہے.

مقبول خبریں اہم خبریں