باپ نے اپنا جگر اپنی نوزائیدہ بیٹی کو عطیہ کر کے اس کی زندگی کیسے بچائی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مکہ مکرمہ ہیلتھ کمپلیکس اور الشرقیہ ہیلتھ کمپلیکس کے درمیان صحت کی خدمات کے تعاون کے نتیجے میں ایک شیر خوار بچی کی جان بچا لی گئی تاہم اس کیس میں شیرخوار بچی کے والد کا بھی کلیدی کردار ہے جس نے اپنی نوزائیدہ بچی کو اپنا جگر عطیہ کرکے اس کی زندگی بچائی ہے۔

بچی کو طبی انخلاء کے آپریشن میں مکہ مکرمہ سے دمام شہر کے کنگ فہد اسپیشلسٹ ہسپتال منتقل کیا گیاں بچی کے جگر کی کامیاب پیوند کاری کی گئی۔

تفصیلات کے مطابق مکہ ہیلتھ کونسل کےترجمان حاتم المسعودی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ مکہ کے حرا جنرل ہسپتال کے ایمرجنسی روم میں ڈیڑھ سالہ بچی کی طبیعت بگڑ گئی۔ بچی کو جب ہسپتال لایا گیا تو اس کی حالت تیزی کے ساتھ بگڑنے لگی اور اس کی جلد اور آنکھیں زرد ہونے لگ گئیں اور اس کے جسم پر کمزوری کے آثار نمایاں ہونے لگے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "اس کیس میں فوری ضروری ٹیسٹ کرنے کے لیے تیزی سے مداخلت کی ضرورت تھی۔ بچی کا ایکسرے اور جگر کے خامروں، خون کو پتلا کرنے والوں کے تجزیے اور تشخیص سے پتہ چلا کہ بچی شدید جگر کی ناکامی کا شکار تھی۔ بچی کی جان بچانے اسے فوری جگر کی ضرورت ہے۔

بچی کو مکہ معظمہ سے دمام منتقل کیا گیا جہاں اسے کنگ فہد اسپیشلسٹ ہسپتال کے ایمری جنسی وارڈ میں منتقل کیا گیا، جہاں اس کے فوری ٹیسٹ کرائے گئے۔

المسعودی نے کہا کہ جب بچی کے جگر کی خرابی کا پتا چلا تو جگر کی تبدیلی کی ضرورت محسوس ہوئی۔ بچی کی جان بچانے کا اور کوئی راستہ نہیں تھا۔ آخر کار نوزائیدہ بچی کے والد نے اپنا جگر عطیہ کیا جسے کامیابی سے تبدیل کردیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں