فلسطین اسرائیل تنازع

حماس کو ختم کرنے کے ہدف پر واشنگٹن سے متفق ہیں:مشیر نیتن یاہو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

غزہ کی پٹی پر امریکی انتظامیہ اور اسرائیل کے درمیان حالیہ اختلافات اور فلسطینی شہریوں کی ہلاکتوں کی بڑھتی تعداد کے ساتھ تین ماہ سے جاری جنگ کے باوجود حماس کو ختم کرنے کے لیے امریکا اور اسرائیل متفق دکھائی دیتے ہیں۔ اس کا اظہار دونوں ملکوں کے عہدیداروں کے بیانات سے بھی ہوتا ہے۔

ایک اسرائیلی عہدیدار نے کہا ہے کہ غزہ میں جنگ کے دوران حماس کے وجود کو ختم کرنا ناگزیرہے۔ ایک عہدیدارنے کہا کہ حماس کے خاتمے کے جنگ میں امریکا اور اسرائیل میں کوئی اختلاف نہیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے سینیر مشیر مارک ریگیو نے وضاحت کی کہ "اگرچہ امریکی انتظامیہ اور ان کے ملک کے درمیان جنگ کے حوالے سے اختلافات ہیں لیکن دونوں ممالک حماس کا خاتمہ دیکھنا چاہتے ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ "ہم واشنگٹن کی ہربات کو بہت غور سے سنتے ہیں اور مجھے لگتا ہے کہ وہ بھی ہماری ہر بات کو بہت غور سے سنتے ہیں"۔

القسام بریگیڈ کے ارکان
القسام بریگیڈ کے ارکان

لیکن انہوں نے زور دیا کہ آخر میں "دونوں فریق حماس کو تباہ کرنے پر متفق ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ "اس مقصد کو حاصل کرنا صرف کچھ وقت کی بات ہے"۔

یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب نیتن یاھو کے قریبی وزیر سٹریٹجک امور رون ڈرمر نے وائٹ ہاؤس اور اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے حکام سے ملاقات کی تاکہ غزہ میں جنگ کے اگلے مرحلے پر بات چیت کی جا سکے۔

ادھر اسرائیلی آرمی چیف آف اسٹاف ہرزی ہیلیوی نے کل اس بات کی تصدیق کی کہ 7 اکتوبر کو شروع ہونے والی جنگ حماس کے خاتمے کے بعد کئی مہینوں تک جاری رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی جادوئی حل اور شارٹ کٹ نہیں ہیں۔

جب کہ امریکا اور دیگر مغربی ممالک جنگ بندی اور شہریوں کی ہلاکتوں کی تعداد کو کم کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔ ترین اعدادوشمار میں فلسطینیوں کی ہلاکتوں کی تعداد 20,000 سے زیادہ ہو گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں