غزہ جنگ کے بعد کیا کرنا ہے؟ اسرائیلی فوج کے سوال پر حکومت کی ٹال مٹول

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے آج بدھ کو غزہ کی پٹی میں جنگ کے خاتمے اور اس کے بعد کے انتظامات کے بارے میں کسی بھی قسم کی بات چیت کو حماس کے خاتمے کے ساتھ مشروط کیا ہے۔

تاہم دوسری طرف جنگ کے بعد کے بارے میں اسرائیلی فوج اور حکومت دونوں تذبذب کا شکار ہیں۔

جنگ کے اگلے دن کیا ہوگا؟

اسرائیلی نشریاتی ادارے ’کے اے این‘ نے بتایا ہے کہ نیتن یاہو نے جنگ کے بعد کے دن کے مسئلے پر بحث کرنے کے لیے جنگی کونسل کا اجلاس منعقد کیا مگر بہت سے سوالات ھنوز جواب طلب ہیں۔

انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ فوج غزہ پر جنگ کے بعد والے دن کے معاملے پر بات کرنا چاہتی ہے لیکن سیاسی سطح پرحکومت بات چیت کی اجازت دینے سے گریز کرتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل میں سیاسی فیصلہ ساز تیار نہیں ہیں۔ وہ پٹی کے انتظام میں فلسطینی اتھارٹی کی شرکت کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتے۔

انہوں نے زور دیا کہ ایک ہی وقت میں وہ متبادل پیش کرنے سے گریز کرتے ہیں۔

یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے حماس کو غیر مسلح کرنے، جنگ بند کرنے اور غزہ کے مستقبل کا تعین کرنے کی اپنی پہلی شرائط کا اعادہ کیا ہے۔

انہوں نے بدھ کے روز اطالوی اخبار لا سٹامپا کے ساتھ ایک انٹرویو میں اس بات کا اعادہ کیا کہ ان کے دعوے کے مطابق "اسلحے کے خاتمے اور غزہ کی پٹی میں انتہا پسندی کے خاتمے کے علاوہ امن ممکن نہیں ہو گا"۔

انہوں نے "حماس کو ختم کرنے، غزہ کو غیرمسلح کرنے اور فلسطینی معاشرے کے لیے انتہا پسندی کو روکنے کی ضرورت پر بھی زور دیا"۔ انہوں نے مزید کہا کہ غزہ میں اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن کے لیے یہ تین شرائط ہیں۔

نیتن یاہونے وضاحت کی کہ غزہ کو غیر مسلح کرنے میں غزہ کی پٹی کے ساتھ ساتھ مصر کے ساتھ سرحد پر ایک عارضی سکیورٹی زون قائم کرنا بھی شامل ہے تاکہ ہتھیاروں کی منتقلی کو روکا جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں