مغرب میں آزادی تہذیبوں کے درمیان تصادم کی طرف گامزن ہے:سربراہ رابطہ عالم اسلامی

دین مکمل ہے اس میں تجدید کی گنجائش نہیں البتہ اجتہاد کا دروازہ کھلا ہے: ڈاکٹر العیسیٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر محمد العیسیٰ نے کہا ہے کہ اسلام ایک مکمل دین ہے جس میں مزید کسی بدعت اور تجدید کی گنجائش نہیں۔ البتہ اجتہاد کے تنوع کا راستہ کھلا ہے۔

قاہرہ یونیورسٹی کے صدر محمد الخشت کی دعوت پر ایک یادگاری لیکچر میں رابطہ عالم اسلامی کے سربراہ محمد العیسیٰ نے تقریبا نوے منٹ خطاب کیا۔ انہیں"مشرق اور مغرب کے درمیان افکار میں ترقی" کا عنوان دیا گیا تھا۔

انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دین اسلام مکمل ہے جس میں کسی تجدید اور بدعت کی گنجائش نہیں۔ البتہ اجتہاد کے تنوع کا دروازہ کھلا ہے۔

انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ "دین مکمل ہے کیونکہ خدا نے اسے مکمل کر دیا ہے، اور اس میں کوئی تجدید نہیں ہوگی، بلکہ تجدید اجتہاد کو اس کے شرعی تقاضوں کے مطابق بڑے مسائل میں متنوع بنانے میں ہے۔

رسول اللہ کے ایک فرمان کا مدعا یہی ہے کہ دین میں اجتہاد ہوگا۔ آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ’’اللہ تعالیٰ اس قوم میں ایک سو سال کے بعد ایک مجتہد بھیجے گا‘‘۔ گویا دین اسلام میں اجتہاد کی گنجائش موجود ہے اور ہرصدی میں اجتہاد ہو گا۔

انہوں نے توجہ دلائی کہ سابقہ فقہاء نے کسی کو اپنے اجتہاد پر عمل کرنے کا پابند نہیں کیا تھا کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ حقیقی فقیہ وہی ہے جو اپنے سے پہلے آنے والوں کا احترام کرے لیکن وہ اپنےزمانے کے تناظر میں اجتہاد کرتا ہے۔

مشرق اور مغرب کے درمیان فکری تغیرات

ڈاکٹر العیسیٰ نے مشرق اور مغرب کے درمیان رونما ہونے والی نمایاں ترین عمومی خصوصیات اور فکری تبدیلیوں اور فرق اور ہم آہنگی کے نکات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مشرق اور مغرب کے درمیان پیش رفت کا تعلق بہت سے مسائل سے ہے۔

ان کا سب سے زیادہ تعلق آزادیوں کے مطلق اور پرخطر تصور سے ہے جس میں مذہب یا انسانی فطرت کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔ انہوں نے اس ضمن میں خبردار کیا کہ ایک اہم مسئلہ یہ کہنے میں مشکل ہے کہ مغرب بحیثیت مجموعی سب سے متفق ہے۔ وہ اختراعات جن کا مشرق مغرب کی طرف منسوب کرتا ہے آج مغرب حقیقت میں کثیر الجہتی تصورات، نسلوں، زبانوں، ثقافتوں اور اتحادوں کا حامل ہے، بالکل اسی طرح مشرق ان سب میں کثیر جہتی ہے۔ مشرق میں نظریات، ثقافت مختلف ہیں۔

انہوں نے اقوام اور عوام کے درمیان ہم آہنگی کو لاحق خطرات کی طرف توجہ مبذول کرائی۔ ان کا کہنا تھا کہ بے لگام آزادیوں پر مبنی مذہبی اشتعال انگیزیوں کے ذریعے بہت سے مسائل اور مشکلات پیدا ہوئیں۔اس سے آزادی کے خوبصورت تصور کو نقصان پہنچ ہے۔ قرآن پاک کے نسخے جلانے جیسے اشتعال انگیز واقعات کو آزادی اظہار کے ساتھ جوڑا گیا جس سے نفرت کے مظاہر پیدا ہونا فطری بات ہے۔

انہوں نے کہا کہ مطلق آزادی ہماری دنیا کے امن اور اس کے قومی معاشروں کی ہم آہنگی کے لیے خطرہ ہے، خاص طور پر تہذیبوں کے تصادم کا باعث بن سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ فکری مباحث کو اکثر مکالمے کے ستونوں کے ذریعے افہام و تفہیم یا یقین کے ساتھ حل کیا جاتا ہے نہ کہ صرف مکالمے سے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں