نئے سال کی آمد پر غزہ کے عوام جنگ سے نالاں اور بہتری کے لیے پُرامید

’ہم جنگوں کےمارے ہوئے ہیں‘ نئے سال پرغزہ والوں کی خواہشات کو سنا جائے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

نئے سال کی آمد آمد ہے اور دوسری جانب غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی خونریز جنگ جاری ہے۔ غزہ کی پٹی کے عوام کی پہلی خواہش جنگ روکنا ہے مگر جنگ روکنے کا نام نہیں لے رہی۔

غزہ کی پٹی کے جنوب میں ایک بے گھر لڑکی نے کہا کہ "مجھے امید ہے کہ جنگ رک جائے گی اور ہم اپنے گھروں کو لوٹ جائیں گے"۔

ایک اور خاتون نے کہا کہ "جنگ بہت ہوگئی۔ ہم جنگوں سے تھک چکے ہیں۔ ہر 4 سال بعد ایک جنگ ہوتی ہے ‘‘۔

انہوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ 2024ء کا سال موجودہ سال سے بہتر رہے گا۔

ایک زخمی ٹانگ والے بچے نے امید ظاہر کی کہ اس کا علاج ہو گا اور وہ صحت یاب ہو جائے گا۔غزہ میں زندگی پہلے جیسی ہوگی۔

بے گھر ہونے والے افراد میں سے ایک نےاس امید کا اظہار کیا کہ سلامتی اور امن واپس آجائے گا۔ غزہ وہی پہلے جیسا ہوگا اور جنگ سے پہلی والی حالت پر آجائے گا۔

یہ الفاظ اور خواہشات اس وقت سامنے آئیں جب محصور غزہ کی پٹی پر جنگ اپنے تیسرے مہینے میں داخل ہو چکی ہے۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ یہ جنگ کئی ماہ تک جاری رہ سکتی ہے۔

اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں فلسطینیوں کی شہادتوں کی تعداد 21,110 ہو گئی ہے۔گذشتہ سات اکتوبر کو شروع ہونے والی وحشیانہ جنگ میں 55,243 زخمی ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں