کویت میں پولیس اہلکار پر تشدد میں ملوث افراد کو جیل بھیجنے کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

کویت میں پولیس نے ایک سکیورٹی اہلکار پر خاتون اور اس کے بیٹے کی طرف سے تشدد اور مارپیٹ کے واقعے کی انکوائری کے دوران ملزمان کو 10 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا فیـصلہ کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو نے اس وقت ہنگامہ کھڑا کردیا تھا جب ویڈیو میں ایک پولیس اہلکار کو خاتون کی طرف سے تھپڑ مارتے اور دھکے دیتے دکھایا گیا تھا۔

کویتی وزارت داخلہ نے بتایا کہ سکیورٹی اہلکار پر تشدد کرنے والے ماں بیٹے کے خلاف مقدمہ درج کرکے انہیں مزید قانونی کارروائی کے لیے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے۔

کویتی وزارت داخلہ نے "ایکس" پلیٹ فارم پر اپنے آفیشل اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ "اپنی ڈیوٹی کی انجام دہی کے دوران سکیورٹی اہلکاروں پر حملوں کے حوالے سے وزارت داخلہ کے سابقہ بیان کے علاوہ وزارت داخلہ نے بتایا کہ اس کیس کے حوالے سے مزید قانونی اقدامات کیے گئے ہیں۔

واقعے کے فریقین کے خلاف کارروائی کی گئی ہے اور ان کے خلاف مختلف مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان مقدمات میں "ایک سرکاری ملازم پر اس کی ڈٰیوٹی کے دوران اس پر حملہ کرنا، سرکاری ملازم کی توہین کرنا اور واقعے کی ویڈیو بنا کر اسے سوشل میڈیا پر پوسٹ اور سوشل میڈیا ایکٹ کی خلاف ورزی کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

وزارت داخلہ نے کہا کہ "ان کو سنٹرل جیل میں10 دن کے لیے حراست میں رکھنے اور گاڑی کو ٹریفک امپاؤنڈ گیراج میں بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے"۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر کویت میں ایک خاتون راہ گیر اور پولیس اہلکاروں کے درمیان تلخ کلامی کے بعد خاتون کی طرف سے پولیس اہلکار کو تھپڑ مارنے کی ویڈیو صارفین کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔

دوسری جانب کویتی وزارت داخلہ نے ایک مختصر بیان میں اس واقعے کے بارے میں کہا ہےکہ پولیس اہلکار اورخاتون کے درمیان ہونے والے واقعے کی تحقیقات ہو رہی ہیں اور کیس مجاز حکام کو بھیج دیا گیا ہے۔

وزارت داخلہ نے سوموار کی شام ایک بیان میں اعلان کیا کہ کچھ پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والی ویڈیو میں ڈیوٹی کے دوران سکیورٹی اہلکاروں پر حملے کا واقعہ حقیقی ہے۔

انہوں نے تصدیق کی کہ واقعے کو پولیس اسٹیشن ریفر کر دیا گیا ہے، جہاں تمام ضروری قانونی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

تاہم وزارت نے اپنے سرکاری اکاؤنٹ کے ذریعے مزید تفصیلات واضح نہیں کیں، لیکن اس بات کی تصدیق کی کہ تحقیقات ہو رہی ہیں۔

سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ٹریفک پولیس اہلکاروں نے ایک 21 سالہ نوجوان کی گاڑی روکی اور اسے لاپرواہی سے گاڑی چلانے پر تنبیہ کی۔ لڑکے نے اپنے والدین کو بلا لیا۔ دونوں میاں بیوی نے موقعے پر پہنچ کر بیٹے کو چھوڑنے کا کہنا مگر دونوں فریقین کے درمیان تلخ کلامی بڑھتی گئی۔

پولیس اہلکار اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے تھے جب نوجوان کی والدین اپنی گاڑی میں پہنچے۔ انہوں نے اپنے بیٹے کو روکنے پر اعتراض کیا، جس پر پولیس اہلکار کو دوسری پولیس پارٹی کو مدد کے لیے بلا لیا۔ اس دوران لڑکے اور اس کی والدہ نے پولیس اہلکار کو دھکے دیے اور اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں