فلسطین اسرائیل تنازع

’حماس کی ’پی ایل او‘ میں قبولیت کے لیے4 شرائط کون کون سی ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

کل منگل کو فلسطین لبریشن آرگنائزیشن [پی ایل او] کی ایگزیکٹو کمیٹی کے ایک ذریعے نے اس طویل اجلاس کے حوالے سے تفصیلات کا انکشاف کیا ہے جو پیرکو فلسطینی صدارتی صدر دفتر رام اللہ میں منعقد کیا تھا۔

عرب ورلڈ نیوز ایجنسی کے مطابق اپنا نام شائع نہ کرنے کی شرط پر ذریعے نے وضاحت کی کہ اس ملاقات میں حماس کی [پی ایل او] میں شمولیت کے امکان پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

4 شرائط

ذریعے نے کہا کہ تنظیم کے چار مطالبات ہیں جن پر حماس کو اپنے مختلف فریم ورکس جیسے فلسطینی نیشنل کونسل، تنظیم کی ایگزیکٹو کمیٹی اور مرکزی کونسل میں داخل ہونے کے لیے متفق ہونا ہوگا۔

ذرائع کے مطابق شرکاء نے حماس سے کہا ہے کہ وہ آزاد فلسطینی ریاست کے بارے میں واضح موقف بیان کرے جس میں مشرقی یروشلم کو 1967ء کی سرحدوں پر مشتمل ریاست کا دارالحکومت قرار دینا چاہیے۔

دوسری شرط فلسطینی عوام کے واحد آئینی نمائندہ کے طور پر پی ایل او سے وابستگی ہے۔ تنظیم کی مختلف ذمہ داریوں کی پاسداری ہے۔ حماس کی شمولیت کے لیے جماعت کی طرف سے پی ایل او کے اسرائیل کے ساتھ کیے گئے تمام معاہدوں کو تسلیم کرنا ہوگا۔

تیسری شرط تنازعات کے حل کی بنیاد اور فلسطینی عوام کے لیے سیاسی حوالے کے طور پر بین الاقوامی قانونی جواز اور بین الاقوامی قانون سے وابستگی ہے۔

ذریعے نے مزید کہا کہ "چوتھی شرط یہ ہے کہ اس بات پر زور دیا جائے کہ ہر قسم کی جدوجہد ہمارے فلسطینی عوام کا فطری حق ہے، لیکن اس مرحلے پر عوامی مزاحمت ہی مناسب اور بہترشکل ہے"۔

"شرائط پر دستخط کرنا ہوں گے"

فلسطینی عہدیدار کے مطابق ان شرائط پر حماس کی طرف سے دستخط کرنے ہوں گے جس کے بعد اس کی PLO میں شمولیت کی فائل اور اس کے فریم ورک پر بات کی جائے گی۔

حماس کے یکطرفہ اقدامات

ذریعہ نے کہا کہ فلسطین لبریشن آرگنائزیشن حماس کی تنہا کارروائی کرنے کی کوششوں کو دیکھتی ہے اور تنظیم سے دور ہو کر اسرائیلیوں کے ساتھ سنجیدگی سے بات چیت کے لیے چینل تلاش کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

ذرائع نے انکشاف کیا کہ PLO نے اپنی ایگزیکٹو کمیٹی سے ایک وفد تشکیل دیا ہے جس کی سربراہی کمیٹی کے سیکرٹری حسین الشیخ کر رہے ہیں۔ وہ اگلے مرحلے کے حوالے سے مشترکہ عرب موقف پر بات چیت کرنے کے لیے مصر جائیں گے۔

جنگ بند ہونے کے بعد

ذرائع نے کہا کہ "یہ وفد مصریوں کے ساتھ رابطہ کاری اور مشترکہ تعاون، مشترکہ مفادات کے لیے ایک روڈ میپ تیار کرنے اور پوری فلسطینی صورت حال کے تناظر کے لیے مشترکہ کام پر بات چیت کرے گا۔

اس بات چیت میں غزہ پر جنگ کو روکنا اور کراسنگ کو کھولنے پر بات کی جائے گی۔ خوراک کی فراہمی میں، خاص طور پر سلامتی کونسل کی جانب سے نقل مکانی کو روکنے کے فیصلے کے بعد اور جنگ کے بعد کے حالات پر بات کی جائے گی۔

پی ایل او کی ایگزیکٹو کمیٹی نے پیر کے روز ایک بیان میں کہا کہ اس نے ایک پیشگی تفصیلات کے حوالے سے اس پر تبادلہ خیال کیا گیا جس میں تین مرحلوں کے بارے میں بات کی گئی ہے۔ اس میں مغربی کنارے اور غزہ کے انتظام کے لیے فلسطینی حکومت کی تشکیل کے بارے میں بات چیت بھی شامل ہے۔

"ایک اقدام کو مسترد کر دیا گیا"

ایگزیکٹو کمیٹی نے اس اقدام کو مسترد کرنے اور فلسطینی عوام کے اعلیٰ ترین مفادات اور ان کے ناقابل تنسیخ قومی حقوق کو متاثر کرنے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے "خطرات" کے حوالے سے اراکین کی ایک کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا۔

لیکن ذرائع نے تصدیق کی کہ مصرنے فلسطینی اتھارٹی کو مطلع کیا کہ یہ اقدام ابتدائی تھا اور یہ ابھی زیر بحث ہے۔ یہ لیک ہو گیا تھا اور حتمی نہیں تھا اور اسے سرکاری طور پر جاری نہیں کیا گیا تھا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ تمام معاملات پر مصری فریق کے ساتھ بات چیت کی جائے گی۔ آنے والے دنوں میں پی ایل او کا وفد قاہرہ جائے گا اور اسکے ساتھ بات چیت کی جائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں